
جمعہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایس سی او کانفرنس کے دوران سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے، فوج کی تعیناتی آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں 5 سے 17 اکتوبر تک فوج تعینات رہے گی، اسلام آباد کی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے حوالے ہوگی اور پولیس سمیت دیگر ادارے فوج کی معاونت کریں گے۔
وفاقی دارالحکومت میں فوج کی تعیناتی کی روایت اور تاریخ موجود ہے۔ماضی میں امن و امان کے حالات کے مدنظر شہر میں فوج تعینات کی جاتی رہی ہے۔
شہر میں آج فوج کی تعیناتی سے قبل وزارت داخلہ نے 10 مئی 2023 کو بھی فوج کی تعیناتی کے لیے درخواست کی تھی تاہم اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا تھا۔
اسلام آباد کی انتظامیہ نے وزارت داخلہ سے درخواست کی تھی کہ وفاقی دارالحکومت میں حالات کے پیش نظر پاک فوج کے اہلکاروں کو تعینات کردیا جائے۔ تاکہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں امن و امان برقرار رکھا جائے اور شہری املاک کی حفاظت ہو۔
ماضی میں دسمبر 2016 میں 90 روز کے لیے دارالحکومت میں فوج کی تعیناتی کی گئی تھی۔ جس میں بعد ازاں مارچ 2017 میں مزید 90روز کی توسیع کردی گئی تھی، وزارت داخلہ نے فوج کے 350 جوانوں کی تعیناتی میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے 21 فروری 2017 کو وفاقی حکومت سے فوج کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست دی تھی۔
جولائی 2014 میں اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کو ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا کیا تھا۔ اس ضمن میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوج کی طلبی کے فیصلے پر وفاقی حکومت سے 6 اگست 2014 تک جواب طلب کیا تھا۔ جبکہ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کو بھجوا دیا تھا۔