تین موبائل نمبر جنہوں نے تباہی مچا دی
بلاسفیمی کے زیادہ تر کیسز میں ملک کے تین بڑے شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں صرف تین موبائل نمبروں کو استعمال کرکے سینکڑوں نوجوان بچوں کو ہنی ٹریپ کیا گیا، فیکٹ فوکس تحقیقات
قندیل عظیم
توہینِ مذہب کے نام پر سرگرم "بلاسفیمی بزنس گروپ” نے اپنے مجرمانہ نیٹ ورک کا آغاز اسلام آباد اور راولپنڈی سے کیا، مگر جلد ہی یہ نیٹ ورک پورے ملک میں پھیل گیا اور کراچی، لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی منظم انداز میں اپنے قدم جما لیے۔ دستاویزی شواہد سے انکشاف ہوتا ہے کہ اسی بلاسفیمی گینگ کی قیادت کے زیرِ استعمال تین مخصوص فون نمبرز بارہا تین بڑے شہروں سمیت ملک بھر میں توہینِ مذہب سے متعلقہ "ہنی ٹریپ” منصوبوں میں استعمال کیے گئے۔ ان تمام کاروائیوں کو اسلام آباد سے گینگ کی مرکزی قیادت ہی کنٹرول کر رہی ہوتی تھی۔ ان منظم کاروائیوں کے نتیجے میں متعدد افراد کو اغوا کیا گیا، جنہیں بعد میں جان سے ہی مار دیا گیا یا پھر ان کی جعلی گرفتاری ظاہر کی گئی۔ ان تمام کارروائیوں میں ایف آئی اے کے بعض اہلکار گروہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ شریک رہے۔
تحقیقاتی صحافت کو سپورٹ کریں ۔ ۔ ۔ فیکٹ فوکس کو گوفنڈ می پر سپورٹ کریں
https://GoFundMe.com/FactFocus
وہ تین نمبر جن کی وجہ سے سارے ملک میں تباہی مچی، نوجوانوں کو ٹریپ کیا گیا وہ نمبرز بلاسفیمی بزنس گروپ کے راؤ عبدالرحیم ، نعمان یوسف اور غضنفر علی عباسی کی ملکیت ہیں۔
توہینِ مذہب کے کاروباری گروہ کے مرکزی کردار راولپنڈی اور اسلام آباد سے اپنے آپریشنز چلاتے ہیں، جن میں راؤ عبدالرّحیم اور شیراز فاروقی شامل ہیں۔ یہ افراد لاہور اور کراچی میں موجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کرتے ہیں، جس سے ایک منظم نیٹ ورک تشکیل پایا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں اس گروہ کی جانب سے درج کی گئی متعدد ایف آئی آرز میں اُن نوجوانوں کو نامزد کیا گیا ہے جنہیں پاکستان کے مختلف شہروں سے جال میں پھنسایا۔ فیکٹ فوکس اپنی تحقیقات میں تین نمبروں کا سراغ لگایا جنہیں توہین مذہب کے زیادہ تر کیسز میں استعمال کیا گیا۔
پراسرار ’’اسپین والی لڑکی‘‘ کا فون نمبر
’’اسپین والی لڑکی‘‘ کا سپین کا فون نمبر
34602191128
اس سارے خوفناک کھیل میں سب سے زیادہ استعمال ہوا۔ اس نمبر کو تمام تر شواہد موجود ہونے کی وجہ سے بلاسفیمی بزنس گروپ کے سربراہ راؤ عبدالرّحیم نے عدالت میں ایک کراس ایگزامینیشن کے دوران اپنا نمبر تسلیم کیا۔ راؤ عبدالرّحیم نے عدالت قرآن پاک پر حلف دے کر یہ بیان بھی دیا کہ اُس یہ سپین والا نمبر اور متعلقہ ڈیوائس سال 2022 میں ایک کیس کی تفتیش کے دوران ایف آئی اے کو سرینڈر کر دیا گیا تھا۔

تاہم راؤ عبدالرّحیم کا یہ سپین والا نمبر 2023 میں بھی فعال رہا۔ ایف آئی آر نمبر 13/2023 (کراچی) میں یہی نمبر "ایمان” نامی لڑکی نے کراچی کے رہائشی حامد جمیل کو ایک جعلی توہینِ مذہب کیس میں پھنسانے کے لیے استعمال کیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ راولپنڈی-اسلام آباد میں قائم یہ نیٹ ورک کس طرح ملک کے دیگر شہروں تک اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے۔

احمد ستی کے کیس (ایف آئی آر نمبر 119/2022، راولپنڈی) میں 26 جون 2023 کو ایف آئی اے افسر سید جاوید حسین شاہ کی کراس ایگزامینیشن میں تصدیق ہوئی کہ راؤ عبدالرّحیم کے زیرِ استعمال ایک اسپین سے متعلقہ نمبر نے واٹس ایپ گروپ سے ایک فرد کو ریموو کیا—جو کہ صرف گروپ ایڈمن ہی کر سکتا ہے۔ اس واضح دستاویزی ثبوت کے باوجود، جو راؤ عبدالرّحیم کو فعال شریک کار کے طور پر ملوث کرتا ہے، ایف آئی اے نے اس کے خلاف کوئی توہینِ مذہب کا کیس درج نہیں کیا۔


ایف آئی آر نمبر 41/2023، جو شہزاد خان کی جانب سے درج کی گئی، میں متاثرہ لڑکے کے موبائل فون سے حاصل کردہ اسکرین شاٹس کی صورت میں ایسے شواہد موجود ہیں جو تصدیق کرتے ہیں کہ یہی اسپین والا فون نمبر متاثرہ لڑکے کو پھنسانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کیس میں نمبر استعمال کرنے والے نے ’’سارا‘‘ نامی عورت کا روپ دھار کر متاثرہ لڑکے سے رابطہ کیا اور اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔

مدعی شہزاد خان نے اپنا موبائل نمبر یا واٹس ایپ اکاؤنٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، جن پر انہوں نے مبینہ طور پر الزام عائد کرنے والا مواد وصول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مزید برآں، اس نمبر کا ذکر بھی کسی سرکاری دستاویز میں نہیں ہے جو کیس سے منسلک ہو۔ یہ بات غیر معمولی ہے کیونکہ ہر کیس میں مدعی سے ضروری ہوتا ہے کہ وہ وہ ڈیوائس یا نمبر ظاہر کرے جس پر وہ قابل اعتراض مواد وصول ہوا ہو۔
سید عبد اللہ شاہ کا کیس (ایف آئی آر نمبر 73/2022، اسلام آباد) بہت اہم ہے۔ عبداللہ شاہ توہینِ مذہب کے کاروباری گروپ کے ہاتھوں اغوا اور قتل ہوئے، جن کی مکمل کہانی فیکٹ فوکس کی اس سال فروری کی تحقیقاتی رپورٹ میں جاری کی جا چکی ہے۔ اس واقعے میں خود راؤ عبدالرّحیم مدعی تھے، جنہوں نے الزام لگایا کہ عبد اللہ نے اسی اسپین سے متعلقہ فون نمبر سے واٹس ایپ کے ذریعے ان کو توہین آمیز مواد بھیجا تھا۔

نزاکت علی (ایف آئی آر نمبر 139/22، راولپنڈی)، جو ایک شریک ملزم ہیں، نے بیان دیا کہ ان سے ایک خاتون نے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اپنے فون میں اسی اسپین سے تعلق رکھنے والا نمبر محفوظ کریں اور جھوٹا وعدہ کیا کہ وہ انہیں اسپین لے کر جانے میں مدد دے گی۔ نزاکت کے مطابق، انہیں سب سے پہلے اس نمبر سے "Hi” کا پیغام موصول ہوا، پھر انہیں واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا گیا، اور پھر اسے گروپ ایڈمن بنانے کے بعد اصل ایڈمن نے گروپ چھوڑ دیا۔ اگرچہ ایف آئی آر راولپنڈی میں درج ہوئی تھی، نزاکت جو سکھر کے رہائشی ہیں، انہیں اسی گروہ نے اغوا کیا اور وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
محمد طارق رمضان کے ایک اور کیس (ایف آئی آر نمبر 188/22، اسلام آباد) میں بھی اسی اسپین سے تعلق رکھنے والے نمبر کا ہنی ٹریپنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایک خاتون، ایمان نامی، جو اس نمبر کا استعمال کرتی تھی، طارق اور ان کی بیوی دونوں سے رابطے میں تھی۔ اس نے طارق کو نوکری کا جھانسہ دے کر اسلام آباد بلایا۔ جب طارق لاپتہ ہو گئے (اغوا ہو گئے)، تو ان کی بیوی نے ایمان سے ان کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھا۔ ایمان نے مختصر جواب دیا اور طارق کی بیوی کو سات سیکنڈ کا وائس میسج بھیجا۔ طارق اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ رپورٹ میں ایمان کی دیگر متاثرہ افراد کو بھیجی گئی چند وائس ریکارڈنگز شامل ہیں۔
ایک انتہائی دردناک واقعے میں محمد طارق رمضان کی بیوی عائشہ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئیں۔ شوہر کی گرفتاری کے بعد بچوں کی اکیلے کفالت کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے، انہوں نے گزر بسر کے لیے فیکٹری میں کام شروع کیا۔ تاہم مالی مشکلات، کمزور ہوتی صحت، اور جذباتی صدمے نے ان پر گہرا اثر ڈالا اور وہ قبل از وقت دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یہ اس بلاسفیمی گینگ جس میں زیادہ تر ایف آئی کے افسران بھی شامل ہیں کے مظام کی بدترین داستانوں میں سے ایک ہے۔ مگر طارق اور عائشہ کی جدوجہد سے بھر پور مگر بہت ہی تکلیف دہ زندگی پر شاید کبھی کوئی فلم نہ بنے، کوئی مکمل کہانی بھی نہ لکھی جائے۔
دوسرا نمبر 313: کراچی آپریشنز اور اسلام آباد کمانڈ آفس کے ساتھ تعلق
ہنی ٹریپنگ # 2 (پاکستان نمبر)
3136431397
یہ نمبر "ایمان” کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور جنوبی پنجاب کی ایک خاتون خورشید مائی کے نام جعلی طور رجسٹر کروایا گیا ہے، یہ نمبر بھی ہنی ٹریپنگ کے متعدد کیسز میں نوجوان بچوں کو پھانسنے کیلیے استعمال ہوا۔ اس نمبر کے ذریعے دیگر شہروں سمیت کراچی میں بھی کئی نوجوانوں کو ہنی ٹریپنگ میں پھنسایا گیا ہے۔ ایک اہم کیس ایف آئی آر نمبر 13/2023 سے متعلق ہے، جس میں نوجوان محمد حماد جمیل کو اس نمبر کو استعمال کر کے پھنسایا گیا۔ یہ اہم بات ہے کہ حماد جمیل کو پھانسنے کیلیے اس نمبر کے علاوہ راؤ عبدالرّحیم کی زیر ملکیت سپین نمبر کو بھی استعمال کیا گیا۔ جب ایک نمبر کے ذریعے مشن کامیاب نہ ہوا تو دوسرا نمبر استعمال کیا گیا۔


تاہم، ایف آئی اے کی ایک سرکاری دستاویز — ایک سیزر میمو (فرد مقبوضگی) — سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 313 نمبر بلاسفیمی گینگ کے سربراہ ایڈووکیٹ راؤ عبد الرحیم کے ذاتی معاون اور ڈرائیور سے منسلک ہے۔ یہ معاون، غضنفر علی، جو کہ ایک جونیئر وکیل بھی ہے اور بلاسفیمی بزنس گروپ کی طرف سے دو ایف آئی آرز کے ذریعے تین وکٹمز کو ہنی ٹریپ کرنے میں بھی ملوث ہے، فرانزک تحقیقات اور کال ریکارڈز کے مطابق راؤ کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے میں رہتا ہے، نے اس نمبر
3136431397
کی ملکیت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
یہ سرکاری دستاویز اس معمہ کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے کہ ان ہنی ٹریپنگ نمبرز کون کنٹرول کر رہا ہے اور اس پورے مجرمانہ نیٹ ورک کی قیادت کون کر رہا ہے۔ فیکٹ فوکس نے جولائی دوہزار چوبیس میں اپنی پہلی بلاسفیمی گینگ پر اپنی پہلی تحقیقاتی رپورٹ میں غضنفر علی کی شخصیت اور اس کے کردار کی وضاحت کی تھی۔


یہ نمبر سوہان خان نیازی (کراچی) اور سید علی حسنین (فیصل آباد) کے کیسز سے بھی منسلک رہا، یہ دونوں افراد بھی ایڈووکیٹ راؤ عبد الرحیم کے بلاسفیمی گینگ کے طرف سے اغوا کیے جانے کے بعد شدید تشدد کے ذریعے مار دیے گئے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج تک کوئی ایف آئی آر تک درج نہ ہو سکی۔
سوہان کے دوستوں اور اہل خانہ کے مطابق، وہ چھ ماہ تک “ایمان” نامی ایک لڑکی کے ساتھ فون پر رابطے میں رہا جو اسلام آباد میں مقیم تھی۔ اس نے بار بار اس سے ملاقات کی درخواست کی، لیکن وہ انکار کرتا رہا۔ آخرکار، وہ خود کراچی آئی اور اسے ایک شاپنگ مال میں ملاقات کے لیے بلایا، جہاں اسے عام لباس میں ملبوس افراد نے اغوا کر لیا۔ سوہان کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیا، پھر اسے ملیر جیل منتقل کر دیا گیا۔ سوہان کو صرف ایک دن حراست میں رہنے کے بعد ہی ہسپتال لے جانا پڑا جہاں وہ شدید تشدد کی وجہ سے آئی چوٹوں کے باعث جاں بحق ہوگیا۔

یہ نمبر ایک ہی کیس میں کئی متاثرین کو پھنسانے کے لیے استعمال ہوا، جن میں بشارت علی شاہ اور حسیب ولد منور شامل ہیں، جو کراچی سے تعلق رکھتے تھے۔ محتاط اندازے کے مطابق، یہ نمبر 2023 تک رجسٹر ہونے والے تقریباً آدھے سے زائد کیسز میں ملوث تھا۔


اس کے علاوہ، راؤ عبد الرحیم اور شيراز فاروقی نے کئی بار کراچی کا دورہ کیا۔ ان میں سے ایک سفر اسی وقت ہوا جب ایک نوجوان سید اظہر علی شاہ کو اغوا کیا گیا تھا۔ بعد میں، قید خانہ میں خاندانی ملاقات کے دوران اظہر کو راؤ عبد الرحیم کی تصویر دکھائی گئی جس میں اس نے انہیں اپنے تفتیش کے دوران موجود افراد میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا (FIR نمبر 16/2024)۔
کراچی کے اپنے دورے کے دوران، بلاسفیمی بزنس گروپ کے ارکان اکثر ایک خاص ایف آئی اے افسر، وزیر بھٹو (جو ایف آئی اے میں پولیس سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے ہیں) سے رابطے میں رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شہزاد خان (راؤ کے معاون) اور وزیر بھٹو کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں جہاں وہ کراچی کے ایک مقامی ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں۔

شہزاد خان (توہینِ رسالت بزنس گروپ کے رکن اور راؤ کے معاون) کے کال ڈیٹیل ریکارڈز سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وہ کئی ایف آئی اے افسران کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں رہتا ہے۔ ایک تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات میں شامل کال ریکارڈز نے اس نمبر کو شہزاد خان کے ساتھ منسلک کیا۔ ان تحقیقات میں شہزاد اور بدعنوان ایف آئی اے عناصر کے درمیان ملی بھگت کے مزید شواہد بھی سامنے آئے۔ ان شواہد میں بہت سی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل ہیں، جن میں شہزاد خان کو ایف آئی اے افسران کے ساتھ مل کر متاثرین کے اغواہ میں غیر قانونی طور پر فعال حصہ لیتے دیکھا گیا۔

ہنی ٹریپنگ کوئین ‘ایمان’ کا بلاسفیمی گینگ کی اعلٰی قیادت سے رابطہ کیسے رہتا ہے
ہنی ٹریپنگ کوئین "ایمان” کا رابطہ بلاسفیمی گینگ کے سربراہ راؤ عبد الرحیم سے راؤ کے ذاتی معاون (راؤ نے شہزاد کو اپنے دفتر کا کلرک تسلیم کیا) شہزاد خان کے فون پر رہتا ہے۔ اس حقیقت کو فیکٹ فوکس نے جولائی 2024 کی اپنی پہلی رپورٹ میں بھی بیان کیا تھا مگر اس رپورٹ میں اس رابطے کا ثبوت بذریعہ سی ڈی آر جاری کیا جا رہا ہے۔

لاہور آپریشنز اور اسلام آباد کمانڈ آفس کے ساتھ رابطہ
حسن معاویہ – سربراہ بلاسفیمی بزنس گروپ لاہور اور وسطی پنجاب
حسن معاویہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے لاہور آپریشنز کو چلاتے ہیں اور مذہبی سرگرمیوں میں ان کے پس منظر اور خاندانی اثر و رسوخ کی وجہ سے ان کے پاس بہت طاقت ہے۔ حسن معاویہ جامعہ اشرفیہ سے منسلک معروف شخصیت مولانا طاہر اشرفی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ دونوں بھائی ایک طاقتور مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کا چند جہادی اور دہشت گردی سے متعلق تحریکوں اور تنظیموں میں نمایاں کردار رہا ہے اور جسے مغربی اور مشرق وسطیٰ کی تنظیموں سے مالی امداد ملی ہے۔ لاہور میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے دیگر اہم اراکین میں نعمان یوسف اور محمد عرفان شامل ہیں۔
حسن معاویہ کم از کم 27 توہین مذہب کے مقدمات میں مدعی ہیں۔ وہ غیرمعمولی اختیار کے ساتھ کام کرتے ہیں اور معمول کے مطابق خود کو ایک طاقتور شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کا لاہور میں ایف آئی اے حکام پر براہ راست اثر و رسوخ ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں ذاتی طور پر افراد کو حراست میں لیتے دکھایا گیا ہے، حالانکہ ان کے پاس قانونی اختیار یا سرکاری اجازت نہیں ہے۔ ویڈیو شواہد سے حسن معاویہ کی ان واقعات میں شمولیت ثابت ہوتی ہے۔
چند توہین مذہب کے مقدمات میں جہاں عدالتوں نے ضمانت منظور کی، وہاں حسن معاویہ نے ضمانت دینے والوں کو دھمکیاں دی ہیں اور انہیں بلیک میل کر کے اپنی حمایت واپس لینے پر مجبور کیا ہے۔
تیسرا نمبر 309: مخدومہ ہنی ٹریپنگ لڑکی
تیسرا نمبر بھی ایک پاکستان کا موبائیل نمبر
3094928192
ہے جو ایک لڑکی "مخدومہ” کے ذریعے استعمال ہوتا تھا اور لاہور میں مدعی نعمان یوسف کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ نعمان نے اس نمبر کے ذریعے 26 افراد کے خلاف 6 ایف آئی آرز درج کروائیں۔


زیادہ تر کیسز میں ہنی ٹریپنگ لڑکیاں وِکٹم کو ریگولر فون کالز سے گریز کرتی ہیں اور متاثرین سے صرف واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ رکھتی ہیں۔ تاہم، عمار احمد کے کیس (کراچی FIR نمبر 13/2023) میں، ہنی ٹریپنگ گرل مخدومہ نے لاہور کے بندے کا یہ نمبر استعمال کرتے ہوئے کراچی کے عمار سے باقاعدہ فون کال کے ذریعے رابطہ کیا، اور اس کا فون نمبر عمار کے کال ڈیٹیلز ریکارڈ (CDR) میں موجود ہے۔

کراچی میں درج FIR نمبر 13/2023، جس کے مدعی محمد علی صدیق ہیں، میں کل 13 افراد کو پھنسایا گیا۔ کال ڈیٹیل ریکارڈز سے تصدیق ہوتی ہے کہ اس خبر میں دیے گئے تینوں فون نمبرز زیادہ تر متاثرین کو پھنسانے کے لیے فعال طور پر استعمال کیے گئے۔ یہ ثبوت واضح طور پر تینوں نمبرز کے آپریٹرز کے درمیان مضبوط رابطے اور ایک مربوط، قومی سطح پر پھیلے ہوئے ٹریپنگ نیٹ ورک کے وجود کو ظاہر کرتے ہیں۔
مخدومہ والا ہنی ٹریپنگ نمبر نہ صرف لاہور بلکہ کراچی اور راوالپنڈی ک کیسز تک میں ہنی ٹریپنگ میں ملوث رہا۔ اشفاق علی ثاقب نام کا لڑکا جس کا کیس راوالپنڈی سائبر کرائم ونگ (ایف آئی آر نمبر 102/2022 راولپنڈی) میں درج کیا تھا اس لڑکے کو بھی اسی مخدومہ والے نمبر سے ٹریپ کیا گیا تھا۔ اور اس کیس میں مدعی بلاسفیمی گینگ کا اہم لیڈر شِیراز فاروقی ہے۔

یہ وسیع ڈیجیٹل اور تصویری ثبوت ایک خوفناک منظر پیش کرتے ہیں: ایک منظم نیٹ ورک جو مذہب کے نام پر کام کر رہا ہے، توہینِ مذہب کے قوانین کو ہتھیار بنا کر نوجوان پاکستانی شہریوں کو پہلے پھنساتا ہے، پھر دہشت زدہ، بلیک میل یا ختم کرتا ہے— اس گینگ کے ساتھ ملک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے بعض عناصر کی ملی بھگت بھی واضح طور پر شامل ہے۔