قندیل عظیم
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے افسران اور بلاسفیمی بزنس گروپ کے ارکان کی بارہا تردیدوں کے باوجود، شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایک تشویشناک اور منظم گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اس گٹھ جوڑ میں ایف آئی اے کے کچھ افسران اور بلاسفیمی گینگ کے کارندے شامل ہیں، جو ملی بھگت سے نوجوان پاکستانی لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک جال میں پھنسا کر اغوا کرتے ہیں اور ان پر جھوٹے توہینِ مذہب کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
متعدد سی سی ٹی وی ریکارڈنگز اور کال ڈیٹا ریکارڈز اس کارروائی کے اندرونی طریقہ کار کو بے نقاب کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو بلاسفیمی گینگ کے ارکان کی جانب سے ہنی ٹریپنگ کے ذریعے اغوا کیا جاتا ہے، جس میں ایسی لڑکیاں شامل ہوتی ہیں جو اس گینگ سے براہ راست منسلک ہیں۔ بلاسفیمی گینگ کے سربراہ ایڈووکیٹ راؤ عبدالر حیم، انکے نائب شیراز احمد فاروقی اور دیگر—ان اغوا کی وارداتوں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اغواہ کیے گئے لوگوں میں سے بعض بعد ازاں حراست میں یا حراست سے پہلے مار دیے جاتے ہیں۔
تحقیقاتی صحافت کو سپورٹ کریں ۔ ۔ ۔ فیکٹ فوکس کو گوفنڈ می پر سپورٹ کریں
https://GoFundMe.com/FactFocus
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لیہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج
سندھ اور پنجاب میں اغوا کے گئے ایسے متاثرین جنہیں بعد میں بلاسفیمی کے جھوٹے کیسز میں پھنسایا گیا یہ بیان کرتے ہیں کہ بلاسفیمی گینگ کے مرکزی کردار راؤ عبدالرحیم، شیراز احمد فاروقی اور دیگر اُنہیں اغوا کرنے کے عمل میں باقائدہ شامل تھے۔ بلاسفیمی گینگ کے ان کرداروں کے موبائل فونز کالز ریکارڈ سے منسلک جیو لوکیشن ڈیٹا سے ان افراد کی جرم کے مقام پر موجودگی کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی رہنے والے یہ افراد نوجوانوں کے اغواہ کے عین وقت سندھ کے شہروں جیسے سکھر یا کراچی وغیرہ میں اسی جگہہ پر موجود پائے جاتے ہیں جہاں ان جرائم کا ارتکاب ہوا ہوتا ہے۔
اغوا کے واقعات کی ایک اور اہم شہادت سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔ متعدد سی سی ٹی وی ویڈیوز تو ایسی ہوتی ہیں جن میں بلاسفیمی گینگ کے افراد کی شکلیں اتنی نظر آتی ہیں کہ انہیں جاننے والے افراد یا صحافی جنہوں نے انہیں دیکھا ہوتا ہے، تو پہچان لیتے ہیں، مگر عام آدمی نہیں پہچان سکتا۔
تاہم بلاسفیمی گینگ کے مجرموں کی طرف سے اٹھارہ سال کے ایک نوجوان بچے کو اغواہ کرنے کی ایک سی سی ٹی وی ویڈیو اپنی اچھی کوالٹی کی وجہ سے نمایاں ہے۔ یہ ویڈیو جنوبی پنجاب کے شہر لیہ میں جی سی یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ پر ریکارڈ کی گئی، جو ہنی ٹریپنگ کا جال بچانے والی لڑکی ’ایمان‘ اور اس گروہ کے دو اہم ارکان: راؤ عبدالرحیم اور شیراز فاروقی کے درمیان تعلق کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ یہ سی سی ٹی وی ویڈیو دکھاتی ہے کہ اٹھارہ سالہ بچے کا اغواہ 6 مارچ 2024 کو دوپہر 2 بج کر 18 منٹ پر ہوا۔ فوٹیج میں ایک سفید رنگ کی سوزوکی کلٹس (نمبر پلیٹ ALA-356، جو راؤ عبدالرحیم کے نام پر رجسٹرڈ ہے) دیکھی جا سکتی ہے، جسے ایک لڑکی چلا رہی تھی جس نے متاثرہ بچے محمد عمر لیاقت کو اپنا نام ’ایمان‘ بتایا تھا۔ اسی وقت ایک سیاہ رنگ کی کِیا نیرو گاڑی (نمبر پلیٹ RA-22، جو درحقیقت ایک ٹویوٹا کے نام پر رجسٹرڈ تھی) قریبی جگہ پر کھڑی تھی، جس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد موجود تھے۔



شیراز فاروقی سڑک کے دوسری جانب خاموشی سے کھڑا تھا اور دیکھ رہا تھا جیسے ہی لڑکا سفید گاڑی کے قریب پہنچا۔ اچانک، فاروقی اور سیاہ کِیا گاڑی میں موجود اس کا ایک ساتھی آگے بڑھے، زبردستی لڑکے کو اغوا کیا اور اسے گھسیٹ کر سیاہ گاڑی میں ڈال دیا۔ اس کے بعد فاروقی واپس سفید سوزوکی کی طرف گیا، ایمان گاڑی کے اندر رہتے ہوئے ہی پیسنجر فرنٹ سیٹ پر منتقل ہو گئی۔ فاروقی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، اور "ایمان” کے ساتھ وہاں سے روانہ ہو گیا۔ دونوں گاڑیاں آگے پیچھے موقع سے فرار ہو گئیں۔
اس مقدمے (FIR نمبر 52/24) میں شکایت کنندہ ایم منصور خان ہیں، اور اس کیس سے راؤ اور فاروقی دونوں کا کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ دیگر کئی مقدمات میں بھی دیکھا گیا ہے، یہ ایک واضح رجحان کی نشاندہی کرتا ہے: بلاسفیمی گینگ کے ارکان ان مقدمات میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں جن کے ساتھ ظاہری طور پر ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ نہ صرف بچوں کواغواہ کرتے ہیں۔ ان کے موبائل فونز چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے اپنے پاس رکھنے کے بعد ایف آئی اے کے افسران کے حوالے کرتے ہیں بلکہ پورا کیس ہی آگے خود اپنی مرضی سے چلاتے ہیں اور اس طرح اپنے مذموم عزائم کو انجام دیتے ہیں۔
شیراز فاروقی نے اپنے بیانات میں انکار کیا کہ وہ ہنی ٹریپنگ میں ملوث خواتین کا اُس کے گروہ سے کوئی تعلق ہے۔ تاہم، یہ ویڈیو ثبوت واضح طور پر ان خواتین کا بلاسفیمی گینگ کی قیادت سے تعلق ثابت کرتا ہے۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان عبداللہ شاہ کے قتل کی تفتیش کے دوران بھی اسی نوعیت کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی، جس میں 2022 میں ایک سفید کلٹس گاڑی جسے ایک خاتون ہی چلا رہی تھی، عبداللہ کو اغواہ کیا گیا تھا۔ عبداللہ شاہ قتل کیس کی تفتیش میں پولیس نے جس سفید رنگ کی کلٹس گاڑی کا جو ذکر کیا اس سفید کلٹس گاڑی سے مشابہ ہے۔ تحقیقات کے مطابق، بلاسفیمی گینگ کے سربراہ راؤ عبدالرحیم نے عبداللہ کو اپنے ذاتی موبائل نمبر کے ذریعے اسلام آباد کے ایف-10 مرکز میں بلایا۔ اُسی دن عبداللہ کو ایف-10 مرکز سے اغوا کیا گیا، اور بعد ازاں اس کی لاش بنی گالہ کے جنگلات سے ملی۔ موبائل فون کے لوکیشن ڈیٹا سے تصدیق ہوئی کہ راؤ عبدالرحیم کے زیرِ استعمال فونز پہلے ایف-10 مرکز میں ایکٹیو تھے اور بعد ازاں اُن کی لوکیشن اس مقام کے قریب ریکارڈ ہوئی جہاں سے عبداللہ کی لاش ملی۔










