احمد نورانی
سرکاری ریکارڈز اور تصدیق شدہ شواہد سے انکشاف ہوتا ہے کہ ایف آئی اے افسران نہ صرف توہینِ مذہب کے کاروبار سے منسلک انتہاپسند گروہوں سے ملے ہوئے ہیں بلکہ خود بھی بلاسفیمی ایکٹیوسٹ بنے ہوئے ہیں۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف آئی اے کے افسران صرف الزامات کی بنیاد پر ملزمان کو قانونی نمائندگی، شفاف تحقیقات یا عدالتی کارروائی کے بغیر ماورائے عدالت قتل کی راہ پر دھکیل رہے ہیں۔
شواہد سے مزید انکشاف ہوتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلاسفیمی کمیشن کیس کی سماعت کے دوران، ایف آئی اے لاہور کے افسران نے متاثرہ خاندانوں پر دباؤ ڈالا تاکہ وہ ایسے تحریری بیانات دیں جو ایف آئی اے افسران کے حق میں ہوں اور عدالت کو گمراہ کیا جا سکے۔ ایف آئی اے لاہور کے ایک اور سینئر افسر چوہدری سرفراز کو عوامی اجتماع میں ان وکلاء کو دھمکیاں دیتے ہوئے بھی ریکارڈ کیا گیا جو توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کی نمائندگی کر رہے تھے۔
کیس فائلز اور رابطوں کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ایف آئی اے لاہور کے سابق افسر مدثر شاہ نے اسلام آباد پولیس کو ایک قتل کی تفتیش میں دانستہ طور پر گمراہ کیا تاکہ توہینِ مذہب کے کاروباری گروہ (بی بی جی) کے سربراہ ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کو اس قتل کیس سے بچایا جا سکے جو پولیس تفتیش میں انکے خلاف ثابت ہو چکا تھا۔ بعد ازاں جب مدثر شاہ کو ایف آئی اے اسلام آباد میں تعینات کیا گیا تو اسی افسر نے مقتول لڑکے کے والد کو جھوٹے توہینِ رسالت محمدی ﷺ کے جھوٹے مقدمے میں ملوث کر دیا۔ افسر کے جاننے والے افراد کی دھمکیوں اور دباؤ کے تحت، والد کو مجبور کیا گیا کہ وہ مبینہ قاتل (بی بی جی کے سربراہ ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم) کے حق میں بیان دے—حالانکہ پولیس پہلے ہی راؤ عبدالرحیم کو اس قتل کیس میں مرکزی ملزم قرار دے چکی تھی۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کو اب نیشنل سائبر کرائمز انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا نام دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی صحافت کو سپورٹ کریں ۔ ۔ ۔ فیکٹ فوکس کو گوفنڈ می پر سپورٹ کریں
https://GoFundMe.com/FactFocus
وِکٹم فیملیز سے زبردستی ایف آئی اے افسران کے حق میں بیان لیے جانے کے واقعات
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (اب این سی سی آئی اے) کے افسران اور بلاسفیمی بزنس گروپ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کے درمیان ملی بھگت اور بے گناہ افراد کو پھنسانے کے الزامات پر سوالات اٹھائے گئے تو ایف آئی اے کے افسران نے متاثرہ خاندانوں سے رابطے شروع کر دیے—اور اُن پر دباؤ ڈالنا شروع کیا تاکہ وہ ایجنسی کے افسران کے حق میں تحریری بیانات دیں۔
یہ خاندان جو پہلے ہی بدترین خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، ہراسانی اور دباؤ کا آسان شکار بن چکے ہیں۔ تاہم، جیسے ہی دھمکیوں کی نئی لہر شروع ہوئی، کچھ خاندانوں نے اپنی بات چیت کو ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔
نیچے دی گئی آڈیو میں، ایف آئی اے لاہور کے افسر نوید اسلم کو ایک متاثرہ خاندان کے فرد کو ادارے کے حق میں بیان دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کلپ میں خاندان کے فرد کی آواز ہٹا دی گئی ہے۔ مکمل اور بغیر ایڈیٹ شدہ آڈیو کسی بھی مجاز کمیشن کے جائزے کے لیے دستیاب ہے۔
نوید، جو کہ ایف آئی اے کے ایک افسر ہیں، نے متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو فون کیا اور کہا:
"کیا تمہیں پتا ہے کہ ایف آئی اے کے خلاف ایک سازش چل رہی ہے؟ کہ ہم جھوٹے توہینِ مذہب کے کیس بناتے ہیں، پیسے مانگتے ہیں، اور جو دے دے اُسے چھوڑ دیتے ہیں؟ جیسا کہ تم جانتے ہو، یہ ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔ تمہیں ایک بیان لکھنا ہوگا اور وہ مجھے واٹس ایپ پر بھیجنا ہوگا۔ بعد میں مجھے وہی بیان ڈاک کے ذریعے بھی چاہیے ہوگا۔ بیان میں لکھنا ہے کہ میں نے تم سے کبھی پیسے نہیں مانگے۔”
خاندان کے اُس فرد، جسے خود نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین کے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، نے سخت ردعمل دیا۔ اُس نے افسر کو یاد دلایا کہ اُس پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا اور اس الزام نے اُس کی زندگی تباہ کر دی تھی۔ جواب میں ایف آئی اے کے افسر نوید نے دعویٰ کیا کہ چونکہ عدالت نے بالآخر اُسے رہا کر دیا تھا، اور اُس (نوید) نے بھی عدالت میں اُس کے حق میں بیان دیا تھا، لہٰذا یہ معاملہ اب ختم سمجھا جانا چاہیے۔
مگر لڑکے نے سنجیدگی سے جواب دیا کہ آپ نے مجھے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین کے مقدمے میں ملوث کیا۔ آپ نے مجھے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان سب کے بعد کوئی بھی عمل ان زخموں کو نہیں بھر سکتا۔
متاثرہ فیملی کے فرد نے مزید کہا کہ جب وہ گرفتار تھا، تو وہ جیل میں تھا اور اس سے براہِ راست پیسے نہیں مانگے جا سکتے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس کے والد اور بھائی ہی ایف آئی اے کے ساتھ رابطے میں تھے۔ نوید نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ ان سے بھی "بات” کرے گا، مگر اس کے باوجود وہ مسلسل اصرار کرتا رہا کہ لڑکا مطلوبہ بیان واٹس ایپ پر بھیجے۔
مذہبی انتہاپسندوں کے زیر اہتمام عوامی اجتماع میں ایف آئی اے کے سینئر افسر کی وکلا کو کھلی دھمکیاں — اور تنظیم کے بانی سے وفاداری کا اظہار
تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک مذہبی انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیم ہے جس کا ماضی پرتشدد کارروائیوں کو ہوا دینے اور شہریوں کے سر قلم کرنے کے کھلے مطالبات سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے ارکان اب تک درجنوں بے گناہ پاکستانی شہریوں کو قتل کر چکے ہیں۔ چند ماہ قبل بھی اس تنظیم نے پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس کے سر قلم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سب کے باوجود، یہ تنظیم طاقتور سرپرستوں کی پشت پناہی میں بغیر کسی خوف کے سرگرم ہے۔
چند ہفتے قبل، تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے زیرِ اہتمام بلاسفیمی مقدمات پر ایک عوامی اجتماع کے دوران، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (جو اب این سی سی آئی اے کہلاتی ہے) لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر چوہدری سرفراز نے وکلاء کو کھلے عام دھمکیاں دیں اور خبردار کیا کہ وہ توہینِ مذہب کے ملزمان کی وکالت نہ کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایسا کرنے والے اللہ اور اُس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کے غضب کو دعوت دیں گے۔ انہوں نے کہا: "وکلاء کو اللہ کے گھر اور اُس کے رسول محمد ﷺ کے دربار میں اپنی بے عزتی نہیں کروانی چاہیے۔”

یہ دھمکیاں دینے کے بعد، سرفراز نے مزید کہا کہ اگر کوئی وکیل واقعی سمجھتا ہے کہ کوئی ملزم بے گناہ ہے تو وہ اُس کی وکالت کر سکتا ہے۔ تاہم، اس سے پہلے اُس نے واضح طور پر کہا کہ تمام توہینِ مذہب کے مقدمات "سو فیصد درست” ہیں اور ہر ملزم "سو فیصد گستاخ” ہے۔ اس نے وکلاء کو اپنی دفتر آنے کی دعوت دی تاکہ وہ وہ شواہد دیکھ سکیں جنہیں وہ ناقابلِ تردید قرار دیتا ہے۔ سرفراز نے کہا کہ وہ اپنے اقدامات سے "چاہے ساری دنیا اُسے روکنے کی کوشش کرے” پھر بھی باز نہیں آئے گا۔
اسی عوامی اجتماع میں، سرفراز نے سنسنی خیز دعوے کیے کہ ایک بین الاقوامی مافیا موجودہ دور میں پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے اور ملک کے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ مافیا نوجوانوں کے "کمزور ذہنوں” کا فائدہ اٹھا کر ہمیں کنٹرول کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر سیکس کو فروغ دے کر۔ سرفراز کے مطابق، یہ مافیا نوجوانوں کو واضح "ہدف” دیتا ہے—انہیں مخصوص سیکس کرنے، اس کی ویڈیو بنانے، اور ویڈیوز کو مخصوص طریقے سے اپ لوڈ کرنے کا کہتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان نوجوانوں کو وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ دیے گئے ٹارگٹ کامیابی سے مکمل کر لیتے ہیں تو انہیں شیطان سے ملاقات کا موقع ملے گا۔ سرفراز نے اپنے خطاب کے اس حصے کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ شیطان کے ساتھ ایسی ملاقاتیں آخرکار واٹس ایپ کے ذریعے ترتیب دی جاتی ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام کے قریب، سینئر ایف آئی اے افسر چودھری سرفراز نے انتہا پسند تنظیم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے علانیہ تسلیم کیا کہ وہ خود اور ایک اور شخص چودھری اعجاز، انتہا پسند تنظیم تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے بانی اور سعد رضوی کے باپ خادم رضوی کے معتقد (پرخلوص پیروکار) ہیں۔
چودھری سرفراز کا مکمل خطاب کہانی کے آخر میں دیا گیا ہے۔
گزشتہ تین سالوں میں درج درجنوں توہین مذہب کے مقدمات کا جائزہ، جن میں سیکڑوں افراد بشمول 400 سے زائد نوجوان اور تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، ایک بھی ایسا واقعہ سامنے نہیں آیا جو "بین الاقوامی مافیا” یا شیطان سے ملاقات کے دعووں کی تائید کرتا ہو۔
پھر بھی ان دعوؤں میں کوئی ذرا سا سچ بھی ہوتا، تو کسی بھی مہذب ملک میں ایسے متاثرین کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور نفسیاتی مدد فراہم کی جاتی، نہ کہ ایسے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جاتا جہاں واحد سزا موت ہے۔
طنزیہ بات یہ ہے کہ یہ دعوے کرنے والے افسر نے خود تسلیم کیا کہ یہ سب ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے، مگر اسی سانس میں یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ اور ان کا ادارہ پاکستان کے خلاف ہونے والی اس سازش کو منتقی انجام تک پہنچانے (یعنی اپنے ہی بچوں جو انہی کے مطابق سازش کا شکار ہیں کو بدترین کیسز میں پھنسانے) کیلیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یعنی ان سازش کرنے والوں کے ایجنڈے کو پاکستان کے خلاف آگے بڑھا رہے ہیں۔
ایف آئی اے کے افسر مدثر شاہ اپنے باس کو قتل کیس سے بچانے کیلیے توہین رسالت محمدیؐ کا جھوٹا کیس درج کیا
بائیس مئی، دو ہزار بائیس کو، بی بی جی کے سربراہ وکیل راؤ عبدالرحیم نے ایف آئی اے میں راولپنڈی کے اکیس سالہ رہائشی عبداللہ اور دیگر افراد کے خلاف توہین مذہب کی شکایت درج کروائی۔ ایف آئی اے نے اسی دن ایف آئی آر (نمبر 73/2022) درج کی۔
راؤ عبدالرحیم نے آٹھ جون، دو ہزار بائیس کو اپنے ذاتی موبائل فون سے عبداللہ کو کال کی اور اسے اسلام آباد کے ایف-ٹین مرکز میں ملاقات کے لیے بلایا۔ اسی دن عبداللہ لاپتہ ہوگیا۔
چند روز بعد، بانی گالا کے جنگلوں میں ایک لاش برآمد ہوئی۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے تصدیق کی کہ وہ عبداللہ کی ہے۔ جیو لوکیشن شواہد سے معلوم ہوا کہ راؤ عبدالرحیم، جس نے عبداللہ کو اُسی دن اس کے گھر سے فون کر کے بلایا تھا، بانی گالا کے اُسی مقام کی طرف گیا تھا جہاں سے بعد میں عبداللہ کی لاش ملی تھی۔ عبداللہ کے والد، عامر شاہ، اپنے بیٹے کے قتل کے مقدمے میں مدعی تھے۔
جیسے ہی اسلام آباد پولیس کی تحقیقات نے ان حقائق کو سامنے لانا شروع کیا، ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ لاہور مین اس وقت تعینات افسر مدثر شاہ نے مداخلت کی اور تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ جب اس کی کوششیں ناکام ہو گئیں، تو اس نے اپنا ٹرانسفر ایف آئی اے اسلام آباد کروا لیا کیونکہ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کا بنیادی رکن تھا اور اس گروپ کے سربراہ ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کے خلاف عبداللہ شاہ قتل کیس ثابت ہو چکا تھا۔ کیس کے واپس لے لیے جانے کے سوا ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کی جان بچنے کا کوئی چارہ نہ تھا۔ اسلام آباد میں ایف آئی اے پہنچتے ہی مدثر شاہ نے نے فوری طور پر عامر شاہ کے خلاف توہین رسالت محمدی ﷺ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا اور فوری طور پر اس کے گھر پر ریڈ کر کے مختلف موبائل اور ڈیوائسز کو قبضے میں لیا، خاندان کو ہراساں کیا۔ اس الزام کی بنیاد یہ تھی کہ مرحوم عبداللہ کا استعمال کیا گیا فون عامر شاہ کے نام رجسٹرڈ تھا۔ جس سے مبینہ طور پر کوئی بلاسفیمی ہوئی تھی۔ جیسا کہ اوپر آڈیو شواہد کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ توہین رسالت کا مقدمہ درج ہونے کے بہت بعد خود ایف آئی اے کو پتا چلتا ہے کہ الزام یا جھوٹا تھا یو ساری بات ہی بے بنیداد تھی۔

بعد ازاں، توہین رسالت گینگ کے ارکان نے عامر شاہ سے رابطہ کیا اور انہیں دھمکیاں دیتے ہوئے ان پر انکے بیٹے عبداللہ شاہ کے قتل کیس کی تفتیش کرنے والے افسر کے سامنے بیان ریکارڈ کروانے کے لیے دباؤ ڈالا، کہ اب وہ یقین نہیں کرتے کہ راؤ عبد الرحیم ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث ہے۔ عامر شاہ سے کہا گیا کہ یہ واحد طریقہ ہے جس سے ایف آئی اے افسر مدثر شاہ اس کے خلاف توہین رسالت کا الزام واپس لے گا—ورنہ اس کے دوسرے بچوں کو بھی اسی کیس میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عامر شاہ کے پاس ان دہشت گردوں کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اور اس کے خلاف توہین رسالت کا کیس ختم کر دیا گیا۔
فیکٹ فوکس نے اس کیس کی تفصیلی تحقیقات اس سال فروری میں شائع کیں، جن میں ایف آئی اے افسر مدثر شاہ کے خلاف دستاویزی شواہد اور اسلام آباد پولیس کی تحقیقاتی رپورٹس شامل ہیں۔ وہ رپورٹ یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
ایف آئی اے لاہور کے افسر محمد اقبال کا کردار
لاہور ہائی کورٹ میں توہین مذہب کے ایک کیس کی سماعت کے دوران، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ محمد اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا۔
اس نوٹس کے جاری ہونے کی وجہ یہ تھی کہ محمد اقبال اپنے افسران کی ہدایات کے مطابق نامعلوم افراد کو عدالت میں لائے جس کا واحد مقصد عدالت کو دھمکانا تھا۔
محمد اقبال کو عدالت کی کاروائی کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرتے بھی پکڑ لیا گیا۔ یہ واضح تھا کہ محمد اقبال توہین مذہب کا سامنا کرنے متاثرین کو جج کی طرف سے کسی بھی طرح کا ریلیف دیے جانے کی صورت میں یہ ویڈیو انتہاپسند گروپوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے تھے، جس سے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کو انتقامی کارروائیوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اس خاص حوالے سے معلومات فیکٹ فوکس نے گزشتہ سال جولائی میں اپنی تفصیلی رپورٹ میں بھی جاری کی تھیں۔
ذیل میں ایف آئی اے لاہور سائبر کرائمز ونگ (اب این سی سی آئی اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر چودھری سرفراز کی انتہا پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے منعقدہ عوامی اجتماع میں دی گئی مکمل پریزنٹیشن اور تقریر دی جا رہی ہے۔
[ https://factfocus.com/wp-content/uploads/2025/06/FIA-Chaudhary-Sarfraz-Speech-in-TLP-Rally.mp4 ]