ایف آئی اے سائبر کرائم ہائیکورٹ کو دھوکہ دیتے ہوئے پکڑی گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کو گمراہ کرنے کیلیے نادرا کو ایک اصل تصویر کو ایک کارٹون سے میچ کرنے کو کہا, نادرہ افسران نے تصدیق کر دی

فیکٹ فوکس نے تفصیلات اور شواہد جاری کر دیے کہ کیسے ایف آئی اے کے افسران نے نادرا کو ایک کارٹون کو ایک اصل انسان کی تصویر سے "میچ” کرنے کیلیے کہا، جو صاف ظاہر ہے "میچ” نہیں ہو سکتی تھی

ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ (این سی سی آئی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلاسفیمی کمیشن کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو گمراہ کرنے کیلیے نادرا کو دو اصل تصویریں بھیجنے کی بجائے ایک اصل انسان کی تصویر اور ایک کارٹون کی تصویر بھیج کر دونوں کے درمیان مماثلت ہونے یا نہ ہونے کی رپورٹ دینے کو کہا۔

نادرا کے حکام نے فیکٹ فوکس کو دستاویزی شواہد کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ انھیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (اب، این سی سی آئی اے) کی جانب سے اس امر کی ہدایت دی گئی ایک انسان کی حقیقی تصویر کا موازنہ ایک واضح طور پر اے آئی سے تیار کردہ کارٹون نما تصویر سے کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ دونوں تصاویر میچ نہیں ہوئیں، یعنی عدم مطابقت سامنے آئی، جسے ایف آئی اے نے جان بوجھ کر عدالت کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔









وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو از سرِ نو تشکیل دے کر ایک علیحدہ ادارے کی شکل دی گئی ہے، جسے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا نام دیا گیا ہے۔

عدالت نے ہنی ٹریپنگ مین شامل "ایمان” نامی لڑکی کی نادرا سے تصدیق کا حکم دیا

یکم جولائی دو ہزار پچیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے افسران اور بلاسفیمی بزنس گروپ کے گٹھ جوڑ سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (این سی سی آئی اے) کو ہدایت دی کہ نادرا کے فیشل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے اُس خاتون کی شناخت کی جائے جو “ایمان” نام سے جانی جاتی ہے اور بلاسفیمی بزنس گینگ کے ایک متاثرہ شخص کی بنائی گئی ویڈیو میں بھی دکھائی گئی تھی۔ عدالت کا مقصد اس خاتون کو تلاش کرکے شناخت کرنا اور بلاسفیمی بزنس گروپ سے متعلق انکوائری میں شامل کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا تھا۔

بلاسفیمی بزنس گروپ کی ہنی ٹریپنگ کوئین جو "ایمان” نام استعمال کر کے نوجوان بچوں کو ٹریپ کرتی تھی۔ ایک وِکٹم نے ویڈیو کال کے دوران اسکے ساتھ گفتگو کی ویڈیو بنا لی جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران چلائی گئی۔ یہ تصویریں اس ویڈیو سے حاصل کیے گئے مختلف سکرین شاٹس ہیں۔ مکمل ویڈیو اس خبر کے آخر میں دی گئی ہے۔

بعد ازاں، تین جولائی دو ہزار پچیس کو فیکٹ فوکس نے قندیل عظیم کی ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ مبینہ "ہنی ٹریپنگ کوئین "ایمان” دراصل کومل اسماعیل ہے، جو اسلام آباد میں مقیم ہے اور بنیادی طور پر میرپور، آزاد کشمیر کی رہائشی ہے۔ جب ایڈووکیٹ ایمان حاضر مزاری نے یہ رپورٹ عدالت میں پیش کی تو جج نے اسی تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر (لیگل) کو حکم دیا کہ نادرا کے ذریعے کومل اسماعیل کا سراغ لگا کر اُسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

تین جولائی دوہزار پچیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں فیکٹ فوکس نے کومل اسماعیل کی یہ تصویر جاری کی جو کی سرکاری ریکارڈز سے حاصل کی گئی۔

بلاسفیمی بزنس گروپ (یا بلاسفیمی گینگ) مختلف واٹس ایپ اور فیس بک گروپس میں ہنی ٹریپنگ کرنے والی لڑکیوں کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتا ہے اور بعد ازاں انہی لڑکیوں کے ذریعے انہیں اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اغوا کے بعد ان نوجوانوں پر شدید تشدد کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بچ جانے کی صورت میں انہیں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

یکم جولائی دو ہزار پچیس کو وہ حکم نامہ جس میں جسٹس سرادار اعجاز اسحٰق خان نے عدالت میں دکھائی ایک ویڈیو جسے ایک وِکٹم نے اپنے موبائل پر ریکارڈ کیا تھا کی بنیاد پر ایف آئی اے (اب، این سی سی آئی اے) کو حکم دیا کہ نادرا کے فیس ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے اس ہنی ٹریپنگ لڑکی "ایمان” کا پتا لگایا جائے۔

تین جولائی دوہزار پچیس کا حکم نامہ جس میں جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے "تحقیقاتی خبر” کا حوالہ دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ خبر میں کومل اسماعیل کی تصویریں اور دیگر کوائف بھی ہیں چناچہ ایف آئی اے نادرا کی مدد سے کومل کو ٹریک کرے۔

ایف آئی اے/این سی سی آئی اے کو نادرا کی مدد سے کومل اسماعیل کا سراغ لگانے کا حکم دیا گیا تھا۔ بنیادی طور پر ایف آئی اے/این سی سی آئی اے نے نادرا کو عدالت میں یکم جولائی 2025 کو چلائی گئی ویڈیو سے حاصل کردہ ہنی ٹریپنگ لڑکی “ایمان” کی تصاویر (جیسا کہ اوپر تصاویر کے مجموعے میں دکھائی گئی ہیں) اور فیکٹ فوکس کی جانب سے جاری کی گئی کومل اسماعیل کی تصویر بھیجنی تھی۔ تا کہ نادرا ان میں مماثلت ہونے یا نہ ہونے کی رپورٹ دے جو کہ عدالت میں پیش کی جا سکے۔ تاہم ایف آئی اے/این سی سی آئی اے کے افسران کے کچھ اور ہی منصوبے تھے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیش ایجنسی (سابق ایف آئی اے) نے اے آئی سے تخلیق کردہ امیج کے ذریعے کیسے عدالتی احکامات کو سبوتاژ کیا؟

یکم جولائی دو ہزار پچیس کو عدالت میں چلائی گئی ویڈیو یا فیکٹ فوکس کی جانب سے جاری کی گئی "ایمان” اور کومل اسماعیل کی تصاویر و ویڈیوز موازنے کیلیے نادرا کو بھیجنے کی بجائے ایف آئی اے نے نادرا کو اپنے خط کے ساتھ صرف ایک صفحے پر مشتمل دستاویز بھیجی جو کہ فیکٹ فوکس کی اس دن کی خبر کا ‘فیچرڈ امیج’ تھا۔ یہ خبر ایڈوکیٹ ایمان حاضر مزاری نے اسی دن عدالت میں پیش کی تھی۔ ‘فیچرڈ ایمج’، یعنی خبر کی مرکزی تصویر، اے آئی سے تیار کردہ وضاحتی خاکے ہوتے ہیں نا کہ اصل تصویریں۔ اسی خبر میں فیکٹ فوکس نے سرکاری دستاویزات سے حاصل کی گئی کومل اسماعیل کی اصل تصویر بھی جاری کی تھی (اوپر خبر میں دی گئی ہے) جس کا حوالہ بھی عدالتی آرڈر میں دیا گیا تھا۔

واضح طور پر ایف آئی اے/این سی سی آئی اے نے نادرا کو یکم جولائی 2025 کو عدالت میں چلائی گئی ویڈیو یا اس میں سے لڑکی کے سکرین شاٹس اور ساتھ میں فیکٹ فوکس کی طرف سے ریلیز کی گئی کومل اسماعیل کی تصویر بھیجنی تھی تا کہ نادرا دونوں تصاویر میں مماثلت جانچنے کیلیے اپنی ڈیٹابیس کی مدد سے انکا موازنہ کرے اور مماثلت ہونے یا نہ ہونے کی رپورٹ دے۔ لیکن اس کے برعکس، ایف آئی اے/این سی سی آئی اے نے نادرا سے کہا کہ وہ ایک عورت کی اصل تصویر کا موازنہ اے آئی سے بنے ایک کارٹون سے کرے۔

اے آئی سے بنایا گیا فیچرڈ امیج جو ایف آئی اے (اب، این سی سی آئی اے) نے نادرا کو بھیجا، وہ پندرہ جون کی ایک خبر کا فیچرڈ امیج تھا جس پر واضح طور "اے آئی سے بنائی گیا وضاحتی خاکہ” لکھا تھا، مگر ایف آئی اے چونکہ اصل حقائق سے آگاہ تھا اس لیے نادرا کو اصل تصویروں کی بجائے ایک اصل تصویر کا ایک کارٹون سے موازنہ کرنے کو کہا گیا۔ اور نادرا کی یہ رپورٹ دیدہ دلیری سے عدالت میں بھی پیش کر دی کہ "میچ” نہیں ہوا۔

15 جون 2025 کی کہانی کی نمایاں تصویر، جس میں فیکٹ فوکس نے سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی تھی جو مختلف زاویوں سے ریکارڈ کی گئی تھی اور جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ کس طرح بلاسفیمی گینگ نے لیہ، پنجاب، پاکستان میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے مرکزی دروازے سے متاثرہ بچے عمر لیاقت کو اغوا کیا۔ اس تصویر پر واضح طور پر درج تھا کہ یہ اے آئی سے تخلیق کردہ ایک عکاسی ہے۔ اس فوٹیج میں گستاخی گینگ کا وہ طریقہ کار سامنے آیا جس میں لڑکیوں کو استعمال کرکے نوجوانوں کو پھنسا کر اغوا کیا جاتا ہے، جیسا کہ فیکٹ فوکس کی پچھلی تحقیقات میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ 3 جولائی 2025 کی فیکٹ فوکس کی تحقیقی رپورٹ میں صرف کومل اسماعیل کی اصل تصویر اس عکاسی کے اوپر لگائی گئی تھی۔


آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ یہ خاکہ فیکٹ فوکس کی اصل اشاعت میں واضح طور پر بطور نمائشی تصویر شائع کیا گیا تھا، نہ کہ اصلی فوٹو کے طور پر۔ اس کے باوجود این سی سی آئی اے (سابق ایف آئی اے) نے اسے کومل اسماعیل کے چہرے کی تصدیق کے لیے بھیجی گئی دو تصاویر میں سے ایک کے طور پر استعمال کیا۔

نادرا نے، این سی سی آئی اے (سابق ایف آئی اے) کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے، محض یہ رپورٹ دی کہ دونوں تصاویر آپس میں نہیں ملتیں اور این سی سی آئی اے (سابق ایف آئی اے) حکام نے اس رپورٹ کو عدالت میں ایسے پیش کیا جیسے اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات نیک نیتی سے پورے کیے ہوں۔

نادرا حکام کے مطابق انھیں صرف یہی دو تصاویر دی گئیں:

ایف آئی اے (اب، این سی سی آئی اے) کا لیٹر جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے نادرا کو ایک انسان کی اصل تصویر اور ایک کارٹون بھیج کر موازنہ کرنے کا کہا گیا۔

ایف آئی اے (اب، این سی سی آئی اے) کا لیٹر جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ہی تصویر میں دو تصویروں، ایک اصل انسان کی تصویر اور دوسرا گاڑی میں بیٹھے شخص (اے آئی سے بنا خاکہ یا کارٹون) کا موازنہ کرنے کا کہا گیا۔

اوپر دیے گئے خط کے ساتھ، ایف آئی اے/این سی سی آئی اے نے یہ تصویر ایک یو ایس بی اور پرنٹ آؤٹ کی صورت میں نادرا کو بھیجی، جو فیکٹ فوکس کی کہانی کی نمایاں تصویر تھی اور عدالت میں پیش کی گئی۔ اپنے خط میں، ایف آئی اے/این سی سی آئی اے نے نادرا پر زور دیا کہ وہ گاڑی کے باہر موجود خاتون کی تصویر کا موازنہ گاڑی کے اندر بیٹھی شخصیت (کارٹون) کی تصویر سے کرے۔ یہ کھلم کھلا دھوکہ تھا—عدالت کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش اور قانون کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی دانستہ سازش۔

نادرا کا جواب جس میں بتایا گیا کہ گاڑی کے باہر لگی تصویر گاڑی کے اندر بیٹھے شخص (اے آئی کارٹون) سے میچ نہیں کی۔

سرکاری دستاویزات اور فیکٹ فوکس کو نادرا حکام کی جانب سے کی گئی تصدیق کے مطابق، نادرا کے متعلقہ حکام نے اپنے طور پرایف آئی اے/این سی سی آئی اے کو اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی لیکن این سی سی آئی اے (سابق ایف آئی اے) کے افسران نے انہیں ہدایت دی کہ معاملے کو اسی طرح آگے بڑھایا جائے جیسا کہ آفیشیل لیٹرز میں لکھا گیا ہے۔

نادرا کے مطابق انکا مینڈیٹ صرف ان دو تصاویر کا موازنہ کرنا تھا جو انہیں بھیجی گئی تھیں۔ نادرا کے مطابق انہیں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اس بات کا تجزیہ کریں کہ کیا بھیجا گیا مواد درست ہے یا نہیں

اس ہیرا پھیری کے ذریعے این سی سی آئی اے (سابق ایف آئی اے) نے ہائی کورٹ کے سامنے شواہد کو غلط انداز میں پیش کیا، جس سے یہ غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ کومل اسماعیل اور ویڈیو میں موجود لڑکی دو مختلف افراد ہیں ۔ حالانکہ تمام متاثرہ افراد کے بیانات، تکنیکی ٹریکنگ، اور ویڈیوز نے یہ تصدیق کر دی تھی کہ ہنی ٹریپنگ میں شامل لڑکی ایمان یہی کومل اسماعیل ہے۔

رابطہ کرنے پر این سی سی آئی اے کے حکام نے فیکٹ فوکس کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

ایف آئی اے/این سی سی آئی اے کے وکیل عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے۔

کومل اسماعیل:

فیکٹ فوکس نے پہلے ہی “ایمان” کو متعدد وجوہات کی بنا پر کومل اسماعیل کے طور پر شناخت کر لیا تھا جن میں مندرجہ ذیل شواہد شامل ہیں:

تکنیکی شواہد (فون کے لوکیشن ڈیٹا، خاص طور پر جب وہ عید کی چھٹیوں کے دوران اپنے والدین سے ملنے میرپور، آزاد کشمیر جاتی تھی)۔

لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے متعدد عینی شاہدین کی طرف سے کی جانے والی تصدیق: ان متاثرین میں لیہ کے عمر لیاقت بھی شامل ہیں، جو اس وقت جیل میں ہیں۔ عمر وہ متاثرہ شخص ہے جسے توہین مذہب کے گینگ نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لیہ، پنجاب، پاکستان کے داخلی دروازے سے اغوا کیا تھا۔ فیکٹ فوکس نے عمر کو اغوا کی جانے والی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے، جس میں اغوا کرنے والوں کے چہرے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج مختلف مقامات پر نصب کیے گئے سی سی ٹی وی کیمروں سے ریکارڈ کی گئی تھی اور اس طرح عمر کے اغوا کو ہر زاویے سے کور کیا گیا۔ اس ویڈیو نے توہینِ مذہب کے گروہ کے اغوا کے طریقہ کار اور لڑکیوں کو شکار پھنسانے اور اغوا کرنے کے اس پیٹرن کی بھی تصدیق کی، جسے فیکٹ فوکس نے اس موضوع پر اپنی ابتدائی تحقیقات میں رپورٹ کیا تھا۔

سرکاری دستاویزات میں موجود تصاویر سے موازنہ کیا گیا

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لیہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج، جس میں ایمان (کومل اسماعیل) عمر کے اغوا کے دوران موجود دکھائی دے رہی ہے۔ اغوا، توہین مذہب کے گینگ کے سرغنہ، شیراز فاروقی نے کیا۔

کال ریکارڈز سے تصدیق ہوئی ہے کہ چھ مارچ دو ہزار چوبیس کو کومل (جو “ایمان” کے نام سے چھپ کر ایک موبائل نمبر استعمال کر رہی تھی،اور وہ نمبر جو خورشید مائی کے نام پر رجسٹرڈ تھا اور متعدد دیگر ہنی ٹریپنگ کے کیسز میں بھی استعمال ہوا) نے ایک نمبر پر کال کی جو عمر کی والدہ کے نام رجسٹرڈ تھا، جب وہ لیہ میں موجود تھی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کومل اسماعیل اغواہ کی اس واردات کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھیں۔

کومل اسماعیل کے استعمال میں نمبر کی سی ڈی آر، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کومل عمر لیاقت کے اغواہ کی واردات کے وقت لیہ میں موجود تھیں۔

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے دیگر متعدد متاثرین نے بھی تصدیق کی کہ کومل وہی خاتون تھی جس نے انہیں ہنی ٹریپنگ گفتگو کے ذریعے پھنسایا اور پھر اغوا، تشدد یا توہین مذہب کے جھوٹے الزامات میں پھنسایا۔

فیکٹ فوکس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعے بلاسفیمی گینگ کے مکروہ دھندے کو فاش کیا

فیٹ فوکس نے جولائی دو ہزار چوبیس سے سلسلہ وار تحقیقی رپورٹس شائع کی ہیں، جن میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ توہین مذہب کے گروہ کس طرح ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ساتھ ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کر کے نوجوانوں کو جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنساتے ہیں۔ متاثرین اکثر درج ذیل طریقوں سے شکار بنتے ہیں:

• خواتین کے ذریعے رومانوی، نظریاتی گفتگو اور ملازمت کے جھانسے میں پھنسایا جانا
• اکیلے ملاقات کے لئے بلایا جانا
• پھر توہین مذہب کے کاروباری گروہ کے ذریعے اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جانا، جس کا واحد مقصد متاثرین سے اعترافی بیانات دلوانا اور ان کی ڈیوائسز کوٹیمپر کرنا ہوتا ہے۔ بعض کیسز میں شدید تشدد کے نتیجے میں نوجوانوں کو موت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

پاکستان میں بلاسفیمی گینگ پر فیکٹ فوکس کی سابقہ رپورٹس پڑھیں

پاکستان اپنے 400 سے زائد نوجوانوں کا توہین مذہب کے مقدمات میں ٹرائل کر رہا ہے

توہینِ مذہب کے کیسز میں ایک نوجوان لڑکی سمیت پانچ متاثرین جیلوں میں شدید تشدد کر کے مارے گئے

خدا کرے ڈی این اے میچ نہ کرے، راولپنڈی کی ایک ماں کی دعا قبول نہ ہوئی

اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ بلاسفیمی کیس کی فائل میں ردّ و بدل کرتے پکڑے گئے

ایف آئی اے افسران انتہاپسندوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے نظامِ انصاف کو متاثر کر رہے ہیں

ویڈیو لیکس سے بلاسفیمی گینگ اور ایف آئی اے کا ناجائز تعلق ثابت

بلاسفیمی بزنس ٹرائی اینگل نیکسس: اسلام آباد پورے ملک میں پھیلے شیطانی جال کا کنٹرول سنٹر

فیکٹ فوکس نے ہنی ٹریپنگ کوئین "ایمان” کو ڈھونڈ نکالا

کمیشن بنانے کا فیصلہ اور اس فیصلے کی معطلی

تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد، جسٹس اعجاز اسحاق نے پندرہ جولائی دو ہزار پچیس کو ایک عدالتی کمیشن کے قیام کا حکم دیا تاکہ درج ذیل تحقیقات کی جاسکیں:

• ایف آئی اے (ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ) کا ان توہین مذہب کے مقدمات میں کردار
• کیا ان متاثرین کو ان مقدمات میں پھنسانے کے پیچھے ایک منظم پیٹرن موجود ہے۔

تاہم، چوبیس جولائی دوہزار پچیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے کمیشن کے قیام کو معطل کر دیا۔ عدالت کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد ستمبر میں سماعتیں دوبارہ شروع ہونے کے بعد متوقع ہے۔

کومل اسماعیل کی پٹیشن نے توہین مذہب کے گینگ کے حامیوں کو حیرت میں ڈال دیا

نا معلوم کومل اسماعیل، جس کے بارے میں ایف آئی اے نے پہلے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے “ٹریک کرنے اور جسٹس اعجاز اسحاق کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہیں”، اس بار اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ کے سامنے بطور پراعتماد درخواست گزار کے طور پر منظر عام پہ آئیں۔ کومل مکمل برقع میں ملبوس تھیں اور ان کے ہمراہ شیراز فاروقی بھی تھے، جو توہین مذہب کے کاروباری گروہ کا ایک اہم رکن ہے۔ ان دونوں کو اس سے پہلے چھ مارچ دو ہزار چوبیس کو لیہ میں وِکٹم عمر لیاقت کے اغوا کے وقت بھی اکھٹے دیکھا گیا تھا۔

سینکڑوں بچوں کو ٹریپ کر کے ان کی زندگیاں تباہ کرنے والی کومل اسماعیل عدالت میں بلاسفیمی گینگ کے مرکزی رہنما شیراز فاروقی کے ساتھ اپنا چہرہ نقاب سے مکمل طور پر ڈھانپ کر آئیں۔

صرف چند ہفتے پہلے ملک کے اہم ترین ادارے ایف آئی اے / این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ وہ کومل اسماعیل کو نہیں ڈھونڈ سکتے۔

اپنی تفصیلی درخواست میں، کومل اسماعیل نے ہر موضوع پر بات کی، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق کے اختیارات تک پر بھی بات کی، انکے کمیشن بنانے کے فیصلے تک کو غلط قرار دے دیا مگر فیکٹ فوکس کی طرف سے ان کے بارے میں کی گئی رپورٹنگ پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ فیکٹ فوکس کی ان کے بارے میں رپورٹ کی گئی کسی ایک بات کو غلط نہیں کہا۔ جب کہ فیکٹ فوکس پر تنقید کرنے والے بلاسفیمی گینگ کو فائدہ پہنچانے کیلیے فیکٹ فوکس کی رپورٹ کو ہی غلط قرار دے رہے تھے۔ اپنی پٹیشن میں کومل اسماعیل نے عدالت سے ریلیف کی درخواست کی، اور اپنا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف، اپنا نام ایگزٹکنٹرول لسٹ سے نکالنے، اور دیگر قانونی کلیئرنس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کومل اسماعیل کی پٹیشن کے ایک حصے کا عکس

تاہم، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے اپنی گیارہ صفحات پر مشتمل اپیل میں، کومل اسماعیل نے جسٹس اعجاز اسحاق خان کے دو احکامات کو چیلنج کیا۔ پہلا حکم، مورخہ تین جولائی دو ہزار پچیس کا تھا جس میں جسٹس اعجاز اسحاق نے ایف آئی اے کو کومل اسماعیل کو ڈھونڈ کر پیش کرنے کی ہدایت دی تھی اور ساتھ ہی ان کے شناختی کارڈ کو بلاک کرنے کے خلاف درخواست بھی شامل تھی۔ دوسرا حکم پندرہ جولائی دو ہزار پچیس کو دیا گیا جس میں توہین مذہب کے کاروباری گروپ کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن کے قیام کا فیصلہ دیا گیا تھا۔

اپیل میں کومل اسماعیل نے عدالت کے فیصلے کو "غیر قانونی” اور "اختیار سے تجاوز” قرار دیا ہے اوریہ موقف اپنایا ہے کہ ٹرائل عدالتوں کے فیصلے کافی ہیں جو کہ توہین مذہب کے کاروباری گروپ کے سینئر رہنمائوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات کی عین عکاسی ہے۔

کومل اسماعیل نے اپنی درخواست میں عدالت کے اختیار سماعت کو ہی چیلنج کر دیا اور مئوقف اپنایا کے چار سو زائد بلاسفیمی کے شکار بچوں کے حوالے سے ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ہی کاروائی ہونے چاہیے اور کسی کمیشن وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اگرچہ کچھ عناصر کومل اسماعیل کا دفاع کر رہے تھے، مگر اس کی پٹیشن نے نہ صرف بلاسفیمی گینگ کے بیانیے اور نعروں کا کھل کر دفاع کیا بلکہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے کمیشن تشکیل دینے کے اختیار کو بھی چیلنج کیا۔ پہلے اسے صرف بلاسفیمی گینگ کی "ہنی ٹریپنگ کوئین” سمجھا جاتا تھا، لیکن اس پٹیشن کے ذریعے اس نے خود کو اس گینگ کی قائدین میں شامل کروا لیا ہے۔

جب فیکٹ فوکس نے لیہ واقعہ کی ویڈیو جاری کی، جس میں یہ سامنے لایا گیا کہ کس طرح توہین مذہب کے گروہ نے ہنی ٹریپنگ لڑکی "ایمان” کی مدد سے متعدد متاثرین میں سے ایک کو اغوا کیا، اور یہ حربہ پاکستان بھر میں سینکڑوں بار دہرایا گیا، تو گروہ اور اس کے حامیوں نے فیکٹ فوکس کی ٹیم اور رپورٹ کی مصنف پر ذاتی حملے کئے۔ یہی پیٹرن اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب ہماری شواہد پر مبنی تحقیق میں، ‘ٹیکنیکل ایویڈینس یعنی تکنیکی ثبوتوں کے ساتھ، ہنی ٹریپنگ لڑکی "ایمان” کو بے نقاب کر کے کومل اسماعیل کے طور پر سامنے لایا گیا۔



تاریخ کے بدترین مجرم جو تعلیم حاصل کرنے والے کچی عمر کے نوجوان بچوں کو ہنی ٹریپنگ کے ذریعے پھنساتے ہیں، کے ساتھ ایف آئی اے/این سی سی آئی اے کا گٹھ جوڑ انتہائی افسوس ناک حقیقت ہے۔ ایف آئی آئی اے/این سی سی آئی اے نے بجائے اصل تصویریں نادرا کو بھیجنے کے جان بوجھ کر وضاحتی خاکے بھیج کر ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ کس سطح پر پروان چڑھ رہا ہے اور یہ کہ ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کس قدر اہم اور اس صورتحال کا واحد حل ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے متعدد متاثرین، مصدقہ آڈیو، ویڈیو، تصاویر پر مبنی شواہد، اور آئندہ ہونے والی عدالتی سماعتوں کے ساتھ، یہ اسکینڈل پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈھانچے میں ایک گہری ادارہ جاتی ناکامی — یا اس سے بھی بدتر، نظریاتی ہم آہنگی — کو بے نقاب کرتا ہے۔

فیکٹ فوکس ان تمام کاروائیوں پر نظر رکھے گا اور اس رپورٹ کے ساتھ تمام تصدیقی دستاویزات جاری کرے گا۔

ایک وِکٹم کی طرف سے اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کی گئی ہنی ٹریپنگ گرل :ایمان” (کومل اسماعیل) کی وہ ویڈیو جو یکم جولائی دوہزار پچیس کو عدالت میں چلائی گئی۔