پچھلے دس برسوں میں پاکستان کی یہ حالت کر دی گئی کہ خوفناک ترین دہشت گردوں کاحمایتی وکیل اور ممتاز قادری جیسے قاتل کے حق میں ایکٹیوسٹ شخص ہائی کورٹ کا جج لگ گیا۔
پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں اس سے کمزور لمحہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا کہ ملکی تاریخ کے خوفناک قاتل کے بلاسفیمی ایکٹیوسٹ وکیل کو ہائی کورٹ کا جج لگا دیا گیا ہو۔
فرزند پاکستان کیپٹن (ر) علی رضا شہید کے قاتل طاقتور قوتّوں سے تعلق کی وجہ سے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ نئے منصوبے لانچ کر رہے ہیں۔
لشکر جھنگوی اور اس کی اعلٰی قیادت کے ساتھ دن رات اٹھنے بیٹھنے والے آج وفاقی وزیر قانون اور دیگر وزراء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں جاتے اور وفاقی دارلحکومت میں کالعدم سپہ صحابہ کے جلسوں سے خطاب کرتے ہیں۔ یہ سب پاکستان میں پچھلے پانچ ہفتوں میں ہوا ہے۔
قندیل عظیم
پانچ مئی 2025 کو حکومت پنجاب کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری نورالامین مینگل نے ایک درخواست مسترد کر دی۔ درخواست ایک ایسے شخص کی تھی جس کا نام برسوں سے دہشت گردی سے متعلق ایک سرکاری فہرست، یعنی فورتھ شیڈول، میں شامل ہے۔ اس شخص نے مؤقف اختیار کیا کہ اب اس کا کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے تعلق نہیں، اس لیے اس کا نام فہرست سے نکال دیا جائے۔
نورالامین مینگل، جنہوں نے خود اس شخص کا نام 24 جون 2024 کو فورتھ شیڈول میں ڈالا تھا، ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ درخواست مسترد کر دی۔ سرکاری فیصلے میں انہوں نے قرار دیا کہ درج وجوہات اور موجود شواہد کے مطابق درخواست گزار کا نام فورتھ شیڈول سے نہیں نکالا جا سکتا۔
یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں تھا۔ اس نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط ایک ایسے ریکارڈ کی طرف دوبارہ توجہ دلائی جس میں فرقہ وارانہ شدت پسندی، دہشت گردی کے مقدمات، کالعدم تنظیموں سے تعلق اور بعد کے برسوں میں سامنے آنے والی نئی سرگرمیاں ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔
اسی کہانی کے تین مرکزی کردار ہیں، جن میں دو سگے بھائی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس چودھری عبدالعزیز جنہوں نے عبداللہ شاہ قتل کیس پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے فیکٹ فوکس کی فروری 2025 کی تحقیقاتی خبر شائع ہونے کے فوراً بعد استعفٰی دے دیا تھا، اس کہانی کے پہلے مرکزی کردار ہیں۔ وہ آج بھی بڑے زور و شور سے مختلف پلیٹ فارمز پر بلاسفیمی کے کاروبار کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔
دوسرے کردار، راؤ حبیب الرحمان، جن کے خلاف 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک مختلف اوقات میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اشتعال انگیزی اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہوتے رہے۔ ان کا نام پاکستان کی تاریخ کے دہشت گردی کے سب سے بڑے کیسز میں آیا، سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کا نام آج بھی فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔ اور حال ہی میں اسی فورتھ شیڈول سے نام نکلوانے کی ان کی درخواست پنجاب کی وزارت داخلہ نے مسترد کر دی۔ وہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے مرکزی رہنماؤں میں سے ہیں اور ایک لمبا عرصہ اسی دہشت گرد تنظیم کے ضلع وہاڑی کے صدر رہے۔ یار رہے کہ پاکستان نے لشکر جھنگوی کو 14 اگست 2001 کو کالعدم قرار دیا تھا ، جبکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 2003 میں اسے القاعدہ اور طالبان سے تعلق کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا۔ اس سب کے باوجود راؤ حبیب الرحمان اب آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے کاروبار وغیرہ کو دیکھ رہے ہیں۔
تیسرے کردار راؤ حبیب الرحمان کے چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم، جوخود کو اسلام آباد میں قائم ایک تنظیم لیگل کمیشن آن بلاسفیمی کا سربراہ بتاتے ہیں مگر پچھلے دو سالوں میں فیکٹ فوکس نے مسلسل اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے انکی تنظیم کی اصلیت کو عیاں کیا اور ثابت کیا کہ راؤ عبدالرحیم در اصل بلاسفیمی بزنس گروپ کے سربراہ ہیں۔ فیکٹ فوکس نے پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کی ایک ایسی کلاسیفائیڈ رپورٹ کو بھی جاری کیا تھا جس میں راؤ عبدالرحیم کے بلاسفیمی سے متعلق اسی ایڈونچر کو بلاسفیمی بزنس گروپ کے نام سے ہی پکارا گیا تھا۔ میڈیا کے دیگر حلقے اور صحافی انکی تنظیم کو بلاسفیمی گینگ پکارتے ہیں۔ انکا کاروبار بھی عروج پر ہے اور موجودہ حکومت کے اہم ترین وزرا سے انکا رابطہ رہتا ہے اور وہ باآسانی پارلیمنٹ کی ہر طرح کی کاروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں۔
یہ رپورٹ سرکاری ریکارڈ، ایف آئی آرز، تحقیقاتی رپورٹس، عدالتی دستاویزات، محکمہ داخلہ کے احکامات، دیگر سرکاری دستاویزات اور ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف اوقات میں پیش آنے والے واقعات کو ایک ٹائم لائن کی صورت میں سامنے لاتی ہے۔ اس ٹائم لائن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی جیسے جرائم میں ملوث افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ عناصر نہ صرف موجودہ نظام میں محفوظ رہتے ہیں بلکہ اپنے فرسودہ اور انتہاپسندانہ نظریات اور مقاصد کو جاری رکھنے کے لیے اپنی سابقہ تنظیموں کو نئے ناموں اور بدلے ہوئے طریقہ کار کے ساتھ دوبارہ منظم کر لیتے ہیں۔ حالات اور ماحول کے مطابق تنظیم کا نام اور کام کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر مقاصد وہی رہتے ہیں۔ یوں گزشتہ تین دہائیوں میں مذہبی انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مزید طاقتور ہوئے، انہوں نے نئے محاذ کھولے اور نت نئے ایڈونچر شروع کیے، جبکہ عام اور غریب لوگوں، خصوصاً پڑھے لکھے نوجوانوں کی زندگیاں مزید اجیرن ہوتی گئیں۔ یہ نوجوان دہشت گرد تنظیموں سے بچتے بچاتے بالآخر بلاسفیمی گینگ جیسے گروہوں کے ہتھے چڑھ گئے، جہاں ان کو جھوٹے الزامات میں زیادہ تر ہنی ٹریپنگ کے ذریعے پھنسا کر انکا مستقبل تباہ کر دیا گیا۔
یہ سب کچھ ریاستی اداروں کی نظروں سے اوجھل نہیں تھا، بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ادارے عمومی طور پر ان مافیاز کے سہولت کار بنے رہے۔ جولائی 2024 سے اب تک فیکٹ فوکس کی جانب سے جاری کی گئی گیارہ مختلف تحقیقات میں دستاویزی شواہد اور ویڈیوز کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے اور اس کا سائبر کرائم ونگ، جو اب این سی سی آئی اے کہلاتا ہے، کس طرح بلاسفیمی گینگ کے مجرموں کے ساتھ مل کر ایک کریمنل نیٹ ورک کی صورت میں کام کرتا ہے۔ اس سہولت کاری میں صرف وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ پنجاب حکومت، عدلیہ سے وابستہ چند کردار، اہم وفاقی ادارے، ایف آئی اے اور پولیس بھی کھل کر سامنے آئے۔ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے وفاقی حکومت کے ایک کمیشن کے ذریعے بلاسفیمی گینگ کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حکم دیا تو ایف آئی اے، اس کے سائبر کرائم ونگ، جو اب این سی سی آئی اے ہے اور ساتھ ساتھ وفاقی حکومت اور اس کی وزارتوں نے بھی اس عدالتی حکم کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں۔
جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز
اس کہانی کے اہم ترین کردار جسٹس چودھری عبدالعزیز ہیں جنہوں نے 2012 میں اسلام آباد کی بارہ سالہ چھوٹی بچی رمشا مسیح پر توہین قرآن کے جھوٹے مقدمے سے شہرت پائی، جس میں وہ اپنے شاگرد راؤ عبدالرحیم کے ساتھ رمشا مسیح کے خلاف وکیل تھے۔

بعد میں وہ کھلے عام توہین مذہب کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی نفرت انگیزی ہی نہیں کرتے رہے بلکہ ممتاز قادری جیسے قاتلوں کے سپورٹر بنے اور قانونی پلیٹ فارمز پر اُس کی نمائندگی بھی کی۔

پاکستان کی عدلیہ کی مکمل ناکامی کی شاید ہی اس سے بڑی کوئی دلیل ہو کہ مارچ 2015 تک چودھری عبدالعزیز قاتل ممتاز قادری کو بچانے کیلیے اس کا کیس ہی نہیں لڑتے رہے ایک بلاسفیمی ایکٹیوسٹ کے طور پر بھی متحرک رہے۔ اور صرف چند ماہ بعد 2016 میں لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج ان کی تعیناتی ہو گئی۔ کسی بڑے بڑے سے مجرم کا وکیل ہونا بھی اصولی طور پر غلط نہیں۔ مگر چودھری عبدالعزیز معصوم رمشا مسیح قتل کیس، بلاسفیمی سے متعلق معاملات اور ممتاز قادری کیس میں ایک ایکٹیوسٹ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ایسے شخص کو جج بنا کر ریاست نے سلمان تاثیر کی فیملی اور قانون، آئین، انصاف اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو کیا پیغام دیا تھا؟ چودھری عبدالعزیز کو جج بنائے جانے سے ہی ریاست کی سلمان تاثیر کے قتل اور ممتاز قادری کے قدم کے حوالے سے پالیسی واضح ہوتی ہے کہ طاقتور ادارے مذہبی انتہا پسندی کا دامن ہاتھ سے کسی طور پر نہیں چھوڑنا چاہتے۔
یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔

جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں اور اور جب 2022 میں بلاسفیمی گینگ کے سربراہ راؤ عبدالرحیم کے خلاف عبداللہ شاہ کا قتل کیس اسلام آباد پولیس نے حل کر لیا تو یکدم جسٹس چودھری عبدالعزیز نے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی کے بنچ سے سنسنی خیز اور مشکوک احکامات جاری کرنا شروع کر دیے، ایف آئی اے کے افسران کی بیانات کی حد تک کھچائی شروع کر دی، ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ میں ایمرجنسی بنیادوں پر "بلاسفیمی سیل” قائم کرنے کے انتہائی مضحکہ خیز احکامات جاری کیے۔ بالکل اسی لمحے ایف آئی اے افسران مقتول عبداللہ شاہ کے والد عامر شاہ کے خلاف بھی توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ درج کر کے اسے پیغام دے چکے تھے کہ اب انکی اور انکے باقی دو بچوں کی زندگی راؤ عبدالرحیم کے خلاف اپنے مقتول بیٹے عبداللہ شاہ کا مقدمہ قتل واپس لینے پر ہی منحصر ہے اور اسی صورت میں عامر شاہ کا نام توہین رسالت کے مقدمے سے نکل سکتا ہے۔ یوں جسٹس چودھری عبدالعزیز کی سربراہی میں چلنے والے نیٹ ورک کے ذریعے بلاسفیمی گینگ کو مسلسل اور مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا رہا۔
یہی نہیں جب ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کی قیادت میں چلنے والا بلاسفیمی گینگ چند ہنی ٹریپنگ والی لڑکیوں اور اس وقت کے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کے ملازمین کے ساتھ مل کر نوجوان بچوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسا رہا تھا، عین اسی وقت راؤ عبدالرحیم ایک درخواست لے کر جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں گئے کہ ایف آئی اے سائیبر کرائمز ونگ کے ملازمین کی ملازمت کو مستقل کیا جائے کیونکہ بہت بڑی بڑی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ جسٹس چودھری ایکٹیوژم کے اس لیول پر تھے کہ انہوں نے راؤ عبدالرحیم کے کہنے پر بطور جج لاہور ہائیکورٹ یہ حکم بھی جاری کر دیا۔ پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کی رپورٹ آئی تو بلاسفیمی گینگ اسے لے کر بھی لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا۔ مگر کسی وجہ سے کچھ عرصے کیلیے جسٹس چودھری کا تبادلہ ملتان بنچ پر ہو گیا۔ اس پر بلاسفیمی گینگ نے بھی معاملے کی پیروی روک دی۔ بعد ازاں جسٹس چودھری ملتان سے واپس آئے تو راؤ عبدالرحیم نے پھر سے درخواست کی پیروی کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ درخواست واقعی جسٹس چودھری کی عدالت میں لگ گئی۔ اور اس مرتبہ بھی جوڈیشیل گاؤن پہنے ایک ایکٹیوسٹ جسٹس چودھری عبدالعزیز نے بلاسفیمی گینگ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسپیشل برانچ کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی تادیبی کاروائی سے روک دیا۔ اگرچہ یہ حکم بعد میں قائم نہ رہ سکا۔
بطور جج مستعفی ہو جانے کے بعد چودھری عبدالعزیز بطور ایک بلاسفیمی ایکٹیوسٹ ایک مرتبہ پھر سے کھُل کر سامنے آ گئے اور اس حد تک بھی گئے کہ بلاسفیمی وکٹمز کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر بھی توہین رسالت کا الزام لگادیا۔ یہ والا انتہائی خطرناک الزام اس طرح لگا دینے سے پیغمبر اسلام کی شخصیت کے بارے میں اور توہین مذہب کے موضوع کے حوالے سے انکی سنجیدگی کا پتا چلتا ہے۔ یاد رہے کہ یہی صاحب ایک طویل عرصہ پاکستان کی اہم ترین ہائیکورٹ میں نہ صرف جج کے منصب پر فائز رہ چکے تھے بلکہ بلاسفیمی کے بہت سارے اہم کیس اور پٹیشنز انہی کی عدالت میں لگائی جاتی تھیں۔
راؤ حبیب الرحمان
دوسرے کردار راؤ حبیب الرحمان کے بارے میں ریکارڈ کا ایک حصہ 1990 کی دہائی سے تعلق رکھتا ہے، جب پنجاب فرقہ وارانہ تشدد کی شدید لہر سے گزر رہا تھا۔ انہی برسوں میں سپاہ صحابہ اور بعد میں اس سے الگ ہونے والی کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے خلاف ملک بھر میں دہشت گردی کے متعدد مقدمات درج ہوئے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے بھی بعد میں لشکرِ جھنگوی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ تنظیم کے بارے میں جاری کردہ اقوام متحدہ کے آفشیل اعلامیے میں متعدد بڑے دہشت گرد حملوں، فرقہ وارانہ قتل و غارت اور بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق الزامات کا ذکر موجود ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق انہی برسوں میں راؤ حبیب الرحمان کے خلاف بھی جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں مقدمات کا اندراج شروع ہوا۔ ان مقدمات میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور دیگر الزامات شامل تھے۔
انہی مقدمات میں ایک مقدمہ خانیوال کے اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) علی رضا کے قتل کا بھی تھا، جنہیں 1996 میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

نوٹ: اس لنک سے آپ کیپٹن (ر) علی رضا شہید کے مقدمہ قتل کی فائل کے چند صفحات دیکھ سکتے ہیں۔
لشکرِ جھنگوی کے ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں پاکستانی مارے گئے۔ ان میں کیپٹن (ر) علی رضا اور ایس ایس پی اشرف مارتھ جیسے بہادر افسران بھی شامل تھے۔ کیپٹن (ر) علی رضا شہید ہوں یا اشرف مارتھ شہید، ان افسران کے بچے آج بھی زندہ ہیں اور اپنی آنکھوں سے اپنے باپ کے قاتلوں کو اپنوں ہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے بھی دیکھتے ہیں اور انہیں نئے شکار پھنساتے بھی دیکھ رہے ہیں۔
مقدمات کے اندراج کا سلسلہ بعد کے برسوں تک جاری رہا۔ مختلف ادوار میں مختلف اضلاع میں ان کے خلاف نئے مقدمات درج ہوتے رہے۔

اسی دوران پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیوں کی نوعیت بھی تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ مختلف کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد کی گرفتاریاں ہوئیں، بعض پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔
راؤ حبیب الرحمان دہشت گردی کا عالمی نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے فرار ہو گئے۔ جس کے بعد انہیں اشتہاری قرار دیا گیا۔ پہلے وہ ملائیشیا پہنچے اور بعد ازاں سعودی عرب منتقل ہو گئے۔ بعد کے برسوں میں پاکستانی اداروں نے ان کی واپسی کے لیے کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں انہیں انٹرپول کے ذریعے سعودی عرب سے گرفتار کر کے حال ہی میں پاکستان واپس لایا گیا۔
تاہم اس کہانی کا اہم موڑ ان کی گرفتاری نہیں بلکہ اس کے بعد سامنے آنے والا سرکاری ریکارڈ ہے۔
پاکستان واپسی کے بعد راؤ حبیب الرحمان کا نام بدستور فورتھ شیڈول میں برقرار رہا۔ فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت ایسے افراد کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی فہرست ہے جن کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے خصوصاً پولیس مخصوص نوعیت کے خدشات یا معلومات رکھتے ہیں۔

سن 2025 میں راؤ حبیب الرحمان نے اپنا نام فورتھ شیڈول سے خارج کرنے کے لیے نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے اس درخواست پر متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کیں۔ دستیاب سرکاری فیصلے کے مطابق ان رپورٹس میں پنجاب پولیس، سپیشل برانچ اور دیگر متعلقہ اداروں کی فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیا گیا۔
اس جائزے کے بعد محکمہ داخلہ نے نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کر دی۔
سرکاری فیصلے میں درج وجوہات کے مطابق محکمہ داخلہ اس نتیجے پر پہنچا کہ درخواست گزار کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کی بنیاد موجود نہیں۔ فیصلے میں متعلقہ اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست مسترد کر دی گئی۔

نوٹ: اس لنک پر آپ راؤ حبیب الرحمان کی درخواست مسترد ہونے کا تین صفحات پر مشتمل مکمل فیصلہ دیکھ سکتے ہیں۔


یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ یہ 1990 کی دہائی کے مقدمات کا نہیں بلکہ 2025 کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔
یعنی تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی متعلقہ سرکاری ادارے اس معاملے کا جائزہ لے رہے تھے اور انہی رپورٹس کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا گیا۔
تاریخ کی بدترین دہشت گرد جماعت لشکر جھنگوی کے اہم رہنما ہونے اور ملکی تاریخ کے خوفناک ترین دہشت گردی اور قتل کے واقعات میں ملوث ہونے کے باوجود راؤ حبیب الرحمان کی خوش قسمتی تھی کہ چند اہم طاقت کے مراکز انکے لیے اور انکی تحریک کیلیے کہیں نہ کہیں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور عمومی طور پر معاملات کو مزاکرات کے ذریعے حل کرنے کے نام پر ایسے دہشت گردوں کے خلاف کسی نہ کیس لیول پر یا تو کیسز میں نرمی ہوتی ہے یا پھر پراسیکیوشن کیس کے ٹرائل میں شواہد ہی پیش نہیں کرتی تھی یا پھر شواہد تبدیل کر دیتی تھی۔ جس سے ایسے مجرموں کے خلاف بڑے بڑے کیسز کا ٹرائل بھی کھٹائی میں پڑ جاتا تھا۔ راؤ حبیب الرحمان اتنے بڑے پیمانے پر خوفناک ترین کیسز میں ملوث رہنے کے باوجود کبھی ریاست کی نرمی تو کبھی گرمی کا سامنا کرتے رہے۔ یہ اعزاز بھی راؤ حبیب الرحمان کو حاصل رہا کہ نظام کے طاقتور کردار، جس میں ہائیکورٹ کے سابقہ جج تک شامل تھے، انکے وکیل بنے۔
ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم
لیکن کہانی صرف راؤ حبیب الرحمان کی قانونی تاریخ تک محدود نہیں۔
یہ چند دوسرے سوالات کا بھی جائزہ لیتی ہے۔
انہی برسوں میں ان کے بھائی، ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم، کس فکری اور تنظیمی ماحول میں سامنے آئے؟ ان کا کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ کیا کردار رہا؟ وہ کن مقدمات میں بطور وکیل پیش ہوتے رہے؟ وہ دہشت گردوں کے صرف پیشہ ورانہ وکیل تھے یا انکے اسپوکس پرسن بھی بنے؟ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں کا مرکز کس طرح بدلتا گیا؟
ان سوالات کے جواب مختلف سرکاری ریکارڈ، عدالتی دستاویزات، اخباری رپورٹس اور ان افراد کے بیانات میں بکھرے ہوئے ہیں جو مختلف ادوار میں اس پوری کہانی کا حصہ رہے۔
جب تک 1990 کی دہائی ختم ہوئی، ان کے بڑے بھائی راؤ حبیب الرحمان ملک کی سب بڑی دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی میں اہم جگہہ بنا چکے تھے جبکہ راؤ عبدالرحیم قانون کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران اس زمانے میں ان کے ساتھ زیرِ تعلیم رہنے والے متعدد افراد سے گفتگو کی گئی۔ ان لوگوں نے آزادانہ گفتگو میں ایک جیسا تاثر بیان کیا۔
ان کے مطابق راؤ عبدالرحیم طالب علمی کے زمانے میں بھی مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات پر غیر معمولی سرگرمی دکھاتے تھے۔ وہ اکثر طلبہ کے ساتھ انہی موضوعات پر بحث کرتے، ایک مخصوص مکتبۂ فکر کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کرتے اور دوسرے طلبہ کو بھی اسی نقطۂ نظر کی طرف قائل کرنے کی کوشش کرتے۔
متعدد سابق ساتھیوں نے ایک واقعہ بھی بیان کیا جو ان کے بقول اس دور میں بارہا دہرایا جاتا تھا۔
ان کے مطابق راؤ عبدالرحیم اپنے پاس ایک فائل رکھتے تھے، جس میں ایسے پرچے موجود ہوتے تھے جن پر بعض جانوروں کی تصاویر کے ساتھ مذہبی شخصیات کے نام درج ہوتے تھے، یا پھر چند برہنہ تصاویر پر مذہب کی برگزیدہ ہستیوں کے نام لکھے ہوتے تھے۔ وہ یہ پرچے دوسرے طلبہ کو دکھاتے اور کہتے کہ یہ ایک مخصوص مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی توہین آمیز سرگرمیوں کا ثبوت ہیں، اس لیے اس مکتبہ فکر کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔
تاہم جن لوگوں نے یہ واقعات بیان کیے، ان کے مطابق جب بعض طلبہ ان سے پوچھتے کہ ان پرچوں کو کسی مخصوص گروہ سے منسوب کرنے کی بنیاد کیا ہے، یا اس کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہے یا نہیں، تو اس سوال کا واضح جواب نہیں دے پاتے تھے۔ متعدد افراد نے گفتگو میں بتایا کہ ایسے مواقع پر بحث اکثر جذباتی رخ اختیار کر لیتی تھی اور گفتگو ثبوت کے بجائے مذہبی جذباتیت کی طرف منتقل ہو جاتی تھی۔
راؤ عبدالرحیم نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ وکالت کے ابتدائی برسوں میں ہی ان کا نام ایسے مقدمات میں سامنے آنے لگا جن کا تعلق سپاہِ صحابہ اور بعد ازاں لشکرِ جھنگوی سے وابستہ شخصیات سے تھا۔ دستیاب عدالتی ریکارڈ اور اس وقت کی اخباری رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان تنظیموں سے وابستہ متعدد افراد کے مقدمات میں بطور وکیل پیش ہوتے رہے۔ مجرموں یا دہشت گردوں کا وکیل ہونا اصولی طور پر معیوب بات نہیں مگر یہاں ہمیں ایک پیٹرن نظر آتا ہے۔ کیسز کا ریکارڈ اور ان کیسز کی میڈیا کوریج یہ ثابت کرتی ہے کہ راؤ عبدالرحیم ایک وکیل کے طور پر نہیں بلکہ لشکر جھنگوی اور سپہ صحابہ کے سپوکس پرسن کے طور پر سامنے آتے تھے اور وہ پاکستان کے تقریباً ہر خوفناک ترین دہشت گرد کے بھی وکیل بنے۔
ان مقدمات میں صرف ان کے بھائی راؤ حبیب الرحمان کا نام شامل نہیں تھا بلکہ ان تنظیموں کی قیادت سے تعلق رکھنے والی دوسری شخصیات بھی شامل تھیں۔ انہی میں ایک نام بدنام زمانہ دہشت گرد ملک اسحاق کا بھی تھا جو ریاض بسرا جیسے ناموں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کے خوفناک ترین دہشت گردوں میں شامل تھا۔
اس زمانے کی اخباری رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عدالت کے اندر قانونی مؤقف اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت کے باہر بھی میڈیا سے گفتگو کرتے تھے۔
مثال کے طور پر، ڈان اور ایکسپریس ٹربیون میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، ملک اسحاق کے خلاف مقدمات کے حوالے سے راؤ عبدالرحیم کا مؤقف یہ تھا کہ استغاثہ ان کے مؤکل کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور مقدمات میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ یہ مؤقف انہوں نے اپنے بھائی راؤ حبیب الرحمان کے مقدمات کے بارے میں بھی مختلف مواقع پر اختیار کیا۔ جبکہ حقائق جاننے کیلیے کسی بھی طرح کوئی لمبی چوڑی تحقیق ضروری ہی نہیں تھی کیونکہ ملک اسحاق سمیت یہ تمام دہشت گرد کھلے عام سینکڑوں مسلمانوں کو مارنے کی بات کرتے تھے۔ یہ بات کرتے وقت کی ان دہشت گردوں کی ویڈیوز بھی موجود تھیں۔ طاقت کے مراکز میں حلقوں کی طرف سے پشت پناہی کی وجہ سے انہیں کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔
راؤ عبدالرحیم کا سپہ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے افراد سے تعلق کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ یہ تنظیمیں پابندی لگنے اور کالعدم ہو جانے کے باوجود طاقتور اداروں کی پشت پناہی کی وجہ سے آج بھی کھلم کھلا مختلف نئے ناموں سے کام کرتی ہیں مگر اپنے جھنڈے اور نعرے وہی استعمال کرتی ہیںَ راؤ عبدالرحیم مسلسل ان تنظیمیں کی سرگرمیوں اور پروگرامز میں اب بھی حصہ لیتے ہیں۔ سپہ صحابہ کے ساتھ انکی آخری سرگرمی یہ خبر چھپنے کے صرف تین دن پہلے اسلام آباد کراچی کمپنی میں تنظیم کے ایک مرکزی کنونشن میں خطاب تھا۔ جس میں انہوں نے لوگوں کو توہین مذہب کے حوالے سے اشتعال دلوایا اور سڑکوں پر آنے کا کہا۔

چونکہ زمانہ طالب علمی ختم ہوتے ہی جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز نے انہیں ایک جونیئر وکیل کے طور پر اپنی آغوش میں لے لیا تھا چنانچہ فرقہ ورانہ انتہاپسندی اور مرنے مارنے والی دہشت گردانہ سوچ کے ساتھ ساتھ راؤ عبدالرحیم نے بلاسفیمی کو بھی باقائدہ کیرئیر کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسلام آباد کی معصوم چھوٹی بچی رمشا مسیح کے مقدمے کے پیچھے درحقیقت راؤ عبدالرحیم اور انکے روحانی استاد جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ہی تھے اور قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر وہ رمشا مسیح کو ‘گستاخ’ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ رمشا مسیح قتل کیس کی سماعت کے دوران انہوں برطانوی اخبار گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں اسلام مسلمانوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتوں بارہ سالہ چھوٹی بچی رمشا مسیح کو توہین مذہب کی سزا نہ دی تو وہ خود سزا دیں گے۔
بعد کے برسوں میں ان کی سرگرمیوں کا مرکز تبدیل ہوا، لیکن مذہبی معاملات میں ان کی سرگرمی ختم نہیں ہوئی۔
اس بار ان کی شناخت لیگل کمیشن آن بلاسفیمی، جو کہ درحقیقت “بلاسفیمی بزنس گروپ” یا “بلاسفیمی گینگ” ہے، کے سربراہ کے طور پر سامنے آئی۔
راؤ عبدالرحیم متعدد انٹرویوز، عدالتی پیشیوں اور عوامی اجتماعات میں اس تنظیم کی نمائندگی کرتے رہے اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ توہینِ مذہب کے مقدمات میں انکی تنظیم کی طرف سے نامزد کر دیے گئے افراد اور نوجوان بچوں اور بچیوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہیے۔ یعی وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ جن افراد کا نام انکے بلاسفیمی بزنس گروپ نے توہین کے ان کیسز میں نامزد کر دیا ان تمام افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔
فیکٹ فوکس کی جولائی 2024 سے مسلسل رپورٹنگ، ان خبروں میں دیے گئے حقائق، شواہد، وِکٹمز کے متواتر مشاہدات، متعلقہ افراد کے کردار اور مقدمات کے باہمی تعلقات نے ملک میں جاری توہینِ مذہب کے متعدد مقدمات پر نئے سوالات کھڑے کیے۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹنگ کسی ایک مقدمے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں مختلف شہروں میں درج مقدمات، باہمی روابط اور ایک منظم طریقۂ کار کی نشاندہی کی گئی تھی۔
گزشتہ چند برسوں میں انہی مقدمات کے نتیجے میں سیکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔ ان میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جبکہ خواتین بھی ان مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان میں سے متعدد افراد کئی کئی برس سے جیلوں میں ہیں اور ان کے مقدمات اب بھی زیرِ سماعت ہیں۔
راؤ عبدالرحیم سے جب بھی ان مقدمات اور انکے اس سارے معاملے میں کردار کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا بنیادی مؤقف یہی رہا کہ کتنا بھی بڑا الزام ہو، قانون کے مطابق عدالت میں دفاع کیا جا سکتا ہے۔
توہینِ مذہب کے مقدمات میں گرفتار افراد کے بارے میں بھی ان کا مؤقف واضح رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ مقدمات بالکل درست ہیں اور یہ تمام بچے گستاخ رسول ہیں۔ وہ شواہد اور حالات و واقعات کی تفاصیل میں گئے بغیردعوٰی کرتے ہیں کہ “گستاخی” کا “جرم” سرزرد ہوا ہے۔ انہوں نے فیکٹ فوکس کو بتایا کہ گستاخی رسول کرنے والے اکاؤنٹس کی اصل تعدا دراصل لاکھوں میں ہے۔
تا ہم ان مقدمات پر سوال اٹھانے والے وکلا، انسانی حقوق کے کارکن اور بعض عدالتی کارروائیوں کے دوران سامنے آنے والا ریکارڈ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ مختلف مقدمات میں وکلا اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے ہر مقدمے میں ایک ہی طرح کے الزامات، ایک ہی طرح کے شواہد، بالکل ایک ہی طرح تفتیش، ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کی طرف سے ڈیجیٹل ایوی ڈنس پیدا کرنے کی کوشش، فرانزک معائنہ مکمل طور پر نہ کروانے اور مقدمات کے اندراج کے انداز پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ عدالتوں سے کمزور یا غلط شہادتوں اور بے بنیاد الزامات کی وجہ سے ملزمان کو ضمانت یا دیگر قانونی ریلیف بھی ملا۔
یہی وہ تضاد ہے جس کے گرد یہ پوری کہانی گھومتی ہے۔
راؤ عبدالرحیم کا مؤقف اپنی جگہہ، چند نقاط کی تشریح پر اختلاف رائے کی گنجائش بھی یقیناً ہوتی ہے مگر یہاں راؤ عبدالرحیم کے مؤقف کے حوالے سے چار ناقابل تردید اور عدالتوں میں ثابت شدہ حقیقتوں یا عدالتوں کے علم میں لائے گئے شواہد اور حوالوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔
1- راؤ عبدالرحیم کا بلاسفیمی گینگ سوشل میڈیا اور فیس بک اور وٹس ایپ گروپس پر نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرتا تھا اور اس مقصد کیلیے بہت سی لڑکیوں کا استعمال کرتا تھا۔ اسکے ہنی ٹریپنگ ونگ کی سربراہ "ایمان” نام استعمال کرنے والی ایک لڑکی تھی جسے بعد میں فیکٹ فوکس نے ایک طویل مدتّی تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے ڈیجیٹل اور فارنزک شواہد سے ثابت کیا کہ بلاسفیمی گینگ کی ہنی ٹریپنگ کوئین درحقیقت میرپور آزاد کشمیر کی کومل اسماعیل ہے جو راؤ عبدالرحیم کے بلاسفیمی بزنس گروپ میں مستقل رکن کے طور پر کام کرتی ہے اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں بھی ملوث رہی ہے۔ فیکٹ فوکس کی اس خبر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے کومل اسماعیل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔
2- راؤ عبدالرحیم نوجوانوں کو پھنسانے کیلیے جعلی فون سموں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات نہ صرف عدالت میں ثابت ہوئی بلکہ راؤ عبدالرحیم کو عدالت میں اس حوالے سے اعتراف جرم بھی کرنا پڑا مگر اب تک انہیں سزا نہیں ہو سکی۔
3- یہ حقیقت بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے راؤ عبدالرحیم کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی بہت سے واقعات میں نوجوان بچوں کو اغوا کرنے کیلیے استعمال ہوئی۔ فیکٹ فوکس نے اس حوالے سے باقائدہ مختلف ویڈیوز بھی جاری کیں۔ یہ ویڈیوز اسلام آباد ہائیکورٹ میں دکھائی بھی گئیں۔
4- یہ حقیقت بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ راؤ عبدالرحیم کے نیٹ ورک میں شامل لوگ اور انکے ساتھ اس بلاسفیمی بزنس گروپ میں کام کرنے والے عہدیداران پاکستان کے مختلف شہروں سے نوجوان بچوں کو باقائدہ اغوا کرنے کیلیے استعمال ہوئے۔ اس حوالے سے ویڈیو شواہد بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
5- راؤ عبدالرحیم نے 2022 میں ایف آئی اے اسلام آباد میں راولپنڈی کے سید عبداللہ شاہ کے خلاف توہین مذہب کے مقدمے کی درخواست دی۔ 8 جون 2022 کو راؤ عبدالرحیم نے اپنے فون سے کال کر کے سید عبداللہ شاہ کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین کے مرکز میں بلایا تو وہ بعد میں غائب ہو گئے۔ اسکے بعد ایف ٹین مرکز کے المعروف ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلا کہ عبداللہ شاہ کو اسی روز رات کے آٹھ بج کر بارہ منٹ پر ایک سوزوکی کلٹس کار میں بٹھا کر وہاں سے لے جایا گیا۔ بعد میں عبداللہ شاہ کی بہت سے ٹکڑوں میں تقسیم لاش بنی گالی کے جنگلات سے ملی۔ اسلام آباد پولیس کی فارنزک تحقیق میں ثابت ہوا اسی رات آٹھ بجے کے بعد راؤ عبدالرحیم کا زیر استعمال دونوں موبائل فون بنی گالہ والی سڑک کی طرف جاتے ہیں۔ بعد میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری عبدالعزیز اور ایف آئی اے نے راؤ عبدالرحیم کو بچانے کی سر توڑ کوششیں شروع کر دیں۔ 2025 میں جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کو عبداللہ شاہ قتل کیس کی دوبارا تحقیقات کر کے انکوائری رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تو راؤ عبدالرحیم اور راؤ حبیب الرحمان کے نظریاتی حامی ایک وفاقی وزیر راؤ عبدالرحیم اور ایف آئی اے/اسلام آباد پولیس کے درمیان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ یہی وفاقی وزیر راؤ اور گینگ کے دیگر ممبران کو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی کاروائی تک رسائی بھی دلواتے ہیں۔
تین دہائیاں، تین کردار، تین راستے اور ایک سوال
اس رپورٹ میں شامل دستاویزات تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہیں۔
یہ تمام دستاویزات مختلف ادوار میں مختلف اداروں نے تیار کیں۔
ان کا موضوع بھی ایک نہیں۔
لیکن جب انہیں ایک ٹائم لائن کے ذریعے دیکھا جائے تو ایک پیٹرن سامنے آتا ہے۔
ایک طرف 1990 کی دہائی سے شروع ہونے والا سرکاری ریکارڈ ہے، جس میں راؤ حبیب الرحمان کا نام مختلف مقدمات، انٹرپول کے ذریعے واپسی اور 2025 میں فورتھ شیڈول سے متعلق فیصلے تک موجود رہتا ہے۔
دوسری طرف موجودہ دور کا ریکارڈ ہے، جس میں راؤ عبدالرحیم کی سربراہی میں کام کرنے والی تنظیم، توہینِ مذہب کے مقدمات اور ان سے متعلق سرکاری و عدالتی دستاویزات اور فیکٹ فوکس کی تحقیقاتی خبریں سامنے آتی ہیں۔
تیسری طرف جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز پچھلے تیس سالوں میں قانون کا شعبہ استعمال کرتے ہوئے ان دہشت گرد تنظیموں اور اس بلاسفیمی گینگ کی سہولت کاری کرتے رہے، اور اسی عرصے میں رمشا مسیح کیس میں ایک بلاسفیمی ایکٹیوسٹ سے لاہور ہائیکورٹ کے جج تک کا سفر طے کر لیا۔ لیکن عہدہ ملنے سے انکی شدت پسندی والی سوچ نہیں بدلی۔
تینوں کہانیاں الگ الگ شروع ہوتی ہیں، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ کہ کس طرح مذہب کا منفی استعمال کر کے قانون کو مذہبی انتہا پسندی اور جہالت کے فروغ کیلیے استعمال کیا گیا، اسی طرح مذہبی دہشت گردی کا راستہ اپنا کر طاقت حاصل کی گئی، یا پھر مذہبی انتہاپسندی کی سوچ کو بلاسفیمی ایکٹیوزم کیلیے استعمال کیا گیا اور منافع بخش کاروبار کو باقائدہ انڈسٹری کی شکل دے دی گئی۔ قومی اور ملکی ادارے اس سب عمل میں ان انتہاپسند اور دہشت پسند عناصر کے سہولت کار بنے رہے۔
اس سب میں سوال ایک ہی ہے کہ پاکستان کی عام عوام کا آخر کیا قصور تھا جنہیں طاقتوروں نے اسی دنیا میں جہنم کی اس آگ میں جھونک دیا اور اور بدترین جرائم کے باوجود یہ تینوں کردار طاقت اور اقتدار کے نشے سے چور ہیں جبکہ تعلیم یافتہ اور قابل عام پاکستانی شہری جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے ان کرداروں کی طرف سے لگائے گئے الزامات میں جیلوں میں بے کس بے آسرا پڑے ہوئے ہیں۔ ریاست اگلی نسل کو کیا پیغام دے رہی ہے؟ کہ وہ روشن مستقبل کیلیے کون سا راستہ اپنائیں؟ شدت پسندی کا منافع بخش راستہ یا علم اور ہنر کے حصول کا مشکل اور صبر آزما راستہ!
==========================================================================
~ اس لنک پر آپ دیکھ سکتے ہیں راؤ حبیب الرحمان گرفتاری کے حوالے سے سپیشل برانچ کی سپیشل رپورٹ

