مضبوط شواہد استدلال پر مبنی فیصلے نے پاکستان میں توہین رسالت کے مبہم قوانین کے منظم انداز میں غلط استعمال کو مکمل طور پر ایکسپوز کر دیا۔
فیکٹ فوکس کی دس ماہ طویل تحقیقاتی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ایک نابینا شخص کی روزی روٹی، جو ایک وزن کرنے والی مشین سے وابستہ تھی، کس طرح ایک تنازع کے بعد توہینِ رسالت کے مقدمے میں بدل گئی اور اسے جیل پہنچا دیا گیا۔
پولیس نے نابینا کرسچن شخص کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت کی درخواست کی، مگر اس کے پاس نہ کوئی ویڈیو تھی، نہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ، اور نہ ہی کوئی آزاد تصدیقی ثبوت۔
لاہور کی سیشن عدالت نے قرار دیا کہ نبی کریم کی ازدواجی زندگی اور آپ کی ازواجِ مطہرات سے متعلق مبینہ گفتگو توہین آمیز نہیں، بلکہ اسلام کے علمی حلقوں میں بحث کا موضوع ہے۔ عدالت نے ملزم کو دس ماہ جیل میں رہنے کے بعد بری کر دیا۔
قندیل عظیم
لاہور کی ایک سیشن عدالت نے توہین رسالت کے ایک مقدمے میں اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نبی کریم کی بیویوں اور آپؐ کی ازدواجی زندگی سے متعلق سوالات اٹھانا توہین آمیز نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ اسلام کے علمی حلقے میں بحث کا موضوع ہے۔
حالیہ اعداد و شمار، سرکاری ریکارڈ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ توہینِ مذہب کے زیادہ تر مقدمات جھوٹے ہوتے ہیں یا کسی خاص مقصد کے تحت بنائے جاتے ہیں۔ باقی بہت سے مقدمات میں نبی کریم کی ازدواجی زندگی اور آپ کی بیویوں سے متعلق ایسی گفتگو شامل ہوتی ہے جو علمی بحث کے دوران فطری طور پر پیدا ہو سکتی ہے۔
فیکٹ فوکس نے اس مقدمے کی دس ماہ سے زائد عرصے تک تحقیق کی۔ اس دوران شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ملزم، وکلا، مدعیان، گواہوں، پولیس افسران اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک ایسا مقدمہ، جس میں ملزم کو سزائے موت ہو سکتی تھی، انتہائی لاپرواہی اور غیر سنجیدگی سے چلایا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ عوامی ردعمل کا خوف تھا۔ نتیجتاً 50 سالہ نابینا مسیحی شخص ندیم مسیح اور اس کے خاندان کی زندگی ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گئی۔
پس منظر اور واقعہ
ندیم مسیح کی عمر 50 سال ہے۔ وہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں اور اوکاڑہ کے قریب ایک گاؤں کے رہائشی ہیں۔ اپنی معذوری کے باوجود وہ محنتی اور زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنے والے شخص تھے۔
انہوں نے باعزت زندگی گزارنے کے لیے خصوصی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ مزید تعلیم کے لیے لاہور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے گریجویشن مکمل کی، مگر تعلیمی قابلیت کے باوجود انہیں مناسب ملازمت نہ مل سکی۔

ہمت ہارنے کے بجائے ندیم نے حلال روزگار کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک وزن کرنے والی مشین خریدی اور لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں واقع نواز شریف پارک میں آنے والے لوگوں کا وزن کرنے کی سہولت فراہم کرنا شروع کر دی۔
ندیم ایک شریف، محنتی اور خوددار شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔ پارک میں آنے والے بہت سے لوگ مقررہ رقم سے زیادہ پیسے دے دیتے تھے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ ایک نابینا شخص کی محنت کو سراہتے تھے، جو بھیک مانگنے کے بجائے کام کر کے روزی کما رہا تھا۔
پارک سے واقف لوگوں کے مطابق یہی بات پارک کی کینٹین چلانے والے ٹھیکیدار کے لیے ناراضی کا سبب بن گئی۔ یہ ٹھیکیدار پارک میں چھوٹے دکانداروں اور روزی کمانے والے افراد پر اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ ندیم کی آمدنی ان لوگوں سے زیادہ تھی جو ٹھیکیدار کے زیراثر کام کرتے تھے۔
فیکٹ فوکس کو ملنے والی متعدد معلومات کے مطابق پارک کے اندر چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد سے اکثر توقع کی جاتی تھی کہ وہ ٹھیکیدار یا اس کے ساتھیوں کو پیسے دیں۔ ندیم تعلیم یافتہ تھے اور اپنے حقوق سے آگاہ تھے، اس لیے وہ ایسی ناجائز ڈیمانڈز کی مزاحمت کرتے تھے۔
تاہم وہ غریب، نابینا اور کمزور پوزیشن میں تھے۔ اس لیے بعض اوقات ٹھیکیدار یا اس کے ساتھیوں کے کہنے پر انہیں پیسے دے دیتے، جب انہیں یقین دلایا جاتا کہ یہ رقم واپس کر دی جائے گی۔ ایک موقع پر انہوں نے کینٹین کے ایک ملازم کو 9 ہزار روپے دیے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ رقم کبھی واپس نہیں کی گئی۔
ندیم مسیح کے مطابق کینٹین کے ٹھیکیدار انہیں اکثر دھمکاتے تھے۔ بعض اوقات انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا، تاکہ وہ پارک چھوڑ دیں اور کسی دوسری جگہ چلے جائیں۔ نواز شریف پارک، ماڈل ٹاؤن لاہور، روزگار کمانے والوں کے لیے ایک منافع بخش جگہ تھی کیونکہ وہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ آتے تھے۔ ان میں قریبی خوشحال آبادیوں کے لوگ بھی شامل تھے۔
اسی دوران تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ کینٹین کے ٹھیکیدار نے اسی پارک کی پارکنگ کے ٹھیکیدار کی مدد حاصل کر لی۔ ندیم زیادہ تر پارک کینٹین کے قریب کام کرتا تھا جبکہ کچھ ہی فاصلے پر پارک کی پارکنگ تھی۔ پارکنگ کا ٹھیکیدار وقاص مظہر اور اس کا ملازم آصف مختار بظاہر زیادہ تعلقات رکھنے والے (خصوصاً پولیس کے ساتھ) اور زیادہ بااثر تھے۔ انہوں نے دھمکیوں یا تشدد کے بجائے ایک مختلف حکمت عملی اختیار کی، جو بالآخر ندیم مسیح کی توہینِ رسالت کے الزام میں گرفتاری پر منتج ہوئی۔
پارکنگ ٹھیکیداروں کے بیانات کے مطابق 9 اگست 2025 کو ان کے اور ندیم مسیح کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کے دوران ندیم نے مبینہ طور پر نبی کریم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہے۔ (یہ الفاظ کیا تھے اور بات شروع کیسے ہوئی، اس سب کا ذکر خبر میں آگے چل کر ہے۔) مدعیان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 21 اگست 2025 کو دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور جھگڑا ہوا۔
وقاص مظہر اور آصف مختار نے پولیس اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے بیانات میں تسلیم کیا کہ 21 اگست 2025 کو گفتگو کا آغاز خود انہوں نے کیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے ندیم مسیح سے پوچھا کہ اس نے اب تک شادی کیوں نہیں کی، اور پھر اس کی ازدواجی زندگی پر بات چیت شروع ہو گئی۔
یہ واضح نہیں کہ ان کے بیانات میں اس گفتگو کی مکمل تفصیل بیان کی گئی یا نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا انہوں نے خود بھی ندیم مسیح کے مذہب یا ان کے مذہبی عقائد کے بارے میں کوئی ریمارکس دیے تھے یا نہیں۔
غیر ضروری مذہبی تنازع سے بچنے کے لیے فیکٹ فوکس اس گفتگو کی تفصیلات شائع نہیں کر رہا کیونکہ دونوں جانب کے دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تاہم اتنا واضح ہے کہ مدعیان کی بیان کردہ کہانی مکمل نہیں، اور ان کے اپنے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گفتگو کا آغاز انہوں نے کیا اور انہوں نے ہی ندیم مسیح کو اس بحث میں الجھایا۔
اس کے بعد بحث شدت اختیار کر گئی۔ مدعیان کے مطابق اسی دوران ندیم مسیح نے دوبارہ وہی الفاظ دہرائے جو ان کے بقول اس نے 9 اگست کے واقعے میں بھی کہے تھے۔
اسی موقع پر مرکزی مدعی اور پارکنگ ٹھیکیدار وقاص مظہر نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو بلا لیا، جو پہلے ہی نواز شریف پارک کے قریب موجود تھے۔
مدعیان کے مطابق ندیم مسیح مسلسل وہی مبینہ ریمارکس دہراتا رہا۔ پولیس نے اسے حراست میں لے کر ماڈل ٹاؤن تھانے منتقل کر دیا۔
پولیس نے ندیم مسیح کو توہینِ رسالت کا ملزم قرار دیا اور اسے جیل بھیج دیا، جہاں اس کی زندگی ایک جہنم بن گئی۔
نابینا ہونے کی وجہ سے اسے روزمرہ کے معمولی کام بھی انتہائی مشکل محسوس ہوتے تھے۔ کھانا کھانے سے لے کر نہانے تک، بیت الخلا استعمال کرنے سے لے کر سونے کی جگہ تلاش کرنے تک، جیل کی زندگی کا ہر مرحلہ اس کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا۔
اس کی مشکلات صرف جسمانی معذوری تک محدود نہیں تھیں۔ جیل میں تقریباً ہر شخص یہی سمجھتا تھا کہ اس نے توہینِ رسالت کی ہے، جس کی وجہ سے اسے ہر طرف نفرت، دشمنی اور مسلسل خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے انٹرویو نے توہینِ رسالت کے مقدمے کی تفتیش میں غیر سنجیدگی اور اعلیٰ سطح کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا
فیکٹ فوکس کی ٹیم نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ڈاکٹر ایاز حسین کا انٹرویو کیا۔ وقوعے کے وقت وہ لاہور کے ایس پی ماڈل ٹاؤن تھے جبکہ اس وقت اسلام آباد پولیس میں ایس پی آپریشنز، سٹی زون کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے تفتیش مکمل کرنے اور عدالت میں حتمی چالان جمع کرانے کے بعد آخر کون سا ثبوت پیش کیا، جبکہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ملزم ندیم مسیح نے نبی کریم کی توہین کی ہے، جو پاکستانی قانون کے تحت لازمی سزائے موت کا جرم ہے۔
جواب میں ڈاکٹر ایاز حسین نے کہا:
"گواہوں کے بیانات اور ملزم سے کی گئی پوچھ گچھ ہی اس مقدمے کے بنیادی شواہد تھے۔”
اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ کیا مدعیان نے اپنے الزامات کے حق میں کوئی آزاد یا مادی ثبوت بھی فراہم کیا تھا، یا پورا مقدمہ صرف ان کے بیانات پر قائم تھا؟
ڈاکٹر ایاز حسین نے صاف الفاظ میں تسلیم کیا کہ مدعیان کی جانب سے کسی بھی قسم کا ڈیجیٹل ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ نہ کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج تھی، نہ کوئی ویڈیو ریکارڈنگ اور نہ ہی کوئی دوسرا الیکٹرانک ثبوت۔
انہوں نے کہا:
"کوئی ڈیجیٹل ثبوت، سی سی ٹی وی فوٹیج یا ویڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں تھی۔”
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی تفتیش اور مدعیان سے کی گئی پوچھ گچھ کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ندیم مسیح نے مبینہ جرم کا ارتکاب کیا تھا۔
کم آمدنی والے طبقے اور موبائل فون کے استعمال سے متعلق مؤقف
ڈاکٹر ایاز حسین سے پوچھا گیا کہ جائے وقوعہ پر اتنے زیادہ لوگ موجود تھے۔ مدعی، گواہ اور خود پولیس پارٹی کے اہلکار بھی وہاں تھے۔ پھر کسی ایک شخص نے بھی مبینہ واقعے کی ویڈیو کیوں نہیں بنائی؟
اس پر ڈاکٹر ایاز حسین نے جواب دیا کہ معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو عموماً موبائل فون استعمال کرنے کے بارے میں اتنی آگاہی نہیں ہوتی۔
اس کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے اس پہلو کی بھی تفتیش کی کہ کہیں مدعیان کا ندیم مسیح کے ساتھ کوئی ذاتی یا کاروباری تنازع تو نہیں تھا، جو ان الزامات کی وجہ بنا ہو؟
ڈاکٹر ایاز حسین نے کھلے لفظوں میں اعتراف کیا کہ انہوں نے تفتیش کے دوران اس پہلو کا جائزہ نہیں لیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا:
"اب جبکہ آپ نے یہ نکتہ اٹھایا ہے، میں اس پہلو کو دوبارہ دیکھوں گا۔”
انہیں یاد دلایا گیا کہ وہ تفتیش مکمل کر چکے ہیں اور عدالت میں حتمی چالان بھی جمع کرا چکے ہیں۔
اس کے باوجود ڈاکٹر ایاز حسین کا کہنا تھا کہ وہ اس پہلو کا اب بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا جرم، جس کی سزا موت ہے، اس کی تفتیش صرف مدعیان کے الزامات کی بنیاد پر اور کسی بھی آزاد یا تصدیقی ثبوت کے بغیر کیسے مکمل کی جا سکتی ہے، تو ڈاکٹر ایاز حسین نے فیکٹ فوکس کو بتایا کہ ایسے مقدمات میں مدعیان اور گواہوں کے بیانات ہی بنیادی ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔
(ڈاکٹر ایاز حسین، اس وقت کے ایس پی ماڈل ٹاؤن لاہور اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر، کا یہ انٹرویو احمد نورانی نے 3 نومبر 2025 کو، واقعے کے چند ہفتوں بعد، کیا تھا۔)
عدالتی کارروائی
لاہور کی سیشن عدالت کے جج سعد سلمان خان نے مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سنے۔ عدالت نے شواہد، گواہوں کے بیانات اور جرح کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

اتنے زیادہ لوگوں کی موجودگی کے باوجود کوئی ویڈیو ریکارڈ نہ ہونا
حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کے تقریباً تمام گواہوں نے اپنی گواہی کی بنیاد مرکزی مدعی وقاص مظہر کے بیان پر رکھی۔
ان گواہوں میں پراسیکیوشن وٹنس نمبر 1 محمد ایوب ایس آئی، پراسیکیوشن وٹنس نمبر 3 آصف مختار اور پراسیکیوشن وٹنس نمبر 4 کانسٹیبل وقار یونس شامل تھے، جو پولیس پارٹی کا رکن بھی تھا۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ مقدمے کے مرکزی مدعی اور اہم ترین گواہ وقاص مظہر اپنے الزامات کے حق میں ایک بھی آزاد ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ واقعے کے وقت موقع پر بہت سے لوگ موجود تھے اور مبینہ گفتگو کے دوران کافی وقت بھی دستیاب تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ ملزم نابینا تھا، اس لیے اسے یہ معلوم بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی اس کی ویڈیو بنا رہا ہے یا نہیں۔ اس کے باوجود کسی ایک شخص نے بھی مبینہ توہین آمیز الفاظ کی ویڈیو ریکارڈ نہیں کی۔
عدالت کے مطابق یہ صورتحال استغاثہ کے مؤقف پر سنگین شکوک پیدا کرتی ہے۔


ایس پی پولیس عدالت میں جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک اور اہم تضاد کی نشاندہی کی۔
مرکزی مدعی اور استغاثہ کے اہم ترین گواہ وقاص مظہر نے عدالت کو بتایا کہ واقعے والے دن انہوں نے اپنا پہلا بیان سب انسپکٹر محمد ایوب (PW-1) کے سامنے ریکارڈ کرایا تھا، جبکہ اگلے روز ان کی ملاقات اس مقدمے کے تفتیشی افسر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (PW-6) ڈاکٹر ایاز حسین سے ہوئی تھی۔
دوسری طرف، ایس پی ڈاکٹر ایاز حسین نے دورانِ جرح عدالت کو بتایا کہ انہوں نے واقعے والی رات تقریباً آدھی رات کے وقت خود گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے تھے، جن میں مرکزی مدعی وقاص مظہر کا بیان بھی شامل تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایس پی ڈاکٹر ایاز حسین عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے ماتحت افسران کی کارروائی کو اپنی کارروائی ظاہر کیا، حالانکہ قانون کے مطابق توہینِ رسالت جیسے مقدمات کی تفتیش صرف سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے کا افسر ہی کر سکتا ہے۔
عدالت نے اس تضاد کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس کی وجہ سے مقدمے کے مرکزی گواہ کا بیان اپنی قانونی حیثیت اور ثبوتی اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔


ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر کہے گئے اصل الفاظ
اس کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں وہ الفاظ بھی نقل کیے جو استغاثہ کے مطابق ملزم نے کہے تھے۔
جج نے خاص طور پر یہ قانونی سوال اٹھایا کہ کیا نبیؐ کی بیویوں یا آپؐ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں گفتگو یا سوالات کو بذاتِ خود توہین آمیز قرار دیا جا سکتا ہے؟
فیصلے کے پیراگراف 22 میں درج ہے:
"ملزم نے کہا کہ تمہارے نبی نے کئی شادیاں کی تھیں۔ تمہارے نبی جنسی تعلق کا بہت شوق رکھتے تھے۔”
اس کے بعد عدالت نے اس نکتے کا قانونی جائزہ لیا اور قرار دیا:
"بحث کی خاطر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ملزم نے واقعی یہ الفاظ کہے تھے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جملے کا کون سا حصہ توہین آمیز ہے یا اس میں نبی کریم کی عزت و حرمت کی بے حرمتی کس طرح کی گئی ہے؟ نبی کریم صرف رحمۃ للمسلمین ہی نہیں بلکہ رحمۃ للعالمین ہیں۔”

عدالت کا فیصلہ
عدالت نے اس کے بعد واضح طور پر قرار دیا کہ نبی کریم کی بیویوں اور آپؐ کی ازدواجی زندگی سے متعلق اس نوعیت کی گفتگو یا سوالات اپنی ذات میں توہین آمیز نہیں ہیں، بلکہ اسلام کے علمی حلقوں میں زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں شامل ہیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں اور پولیس افسران نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور معاملے کو مناسب سنجیدگی سے نہیں دیکھا۔

عدالت کا حتمی فیصلہ
عدالت نے تمام حقائق، شواہد، گواہوں کے بیانات اور ان پر ہونے والی جرح کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت نے ندیم مسیح کو نبیؐ کی توہین کے الزام سے بری کرتے ہوئے بے گناہ قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود دیا گیا کہ مقدمے کے تفتیشی افسر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، اپنی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کر چکے تھے کہ ندیم مسیح نے یہ جرم کیا ہے۔

نوٹ: قارعین مکمل فیصلہ پڑھنے کیلیے اس لنک پر کلک کریں اور پی ڈی ایف فائل ڈائون لوڈ کر لیں۔

توہینِ رسالت کی سیاست کے ناقابلِ تلافی نقصانات
ندیم مسیح کا مقدمہ اس تلخ حقیقت کی واضح مثال ہے کہ پاکستان کے توہینِ رسالت کے قوانین کے تحت بے گناہ افراد بھی برسوں تک جیلوں میں رہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جبکہ عدالتوں میں مقدمات کا فیصلہ ہونے میں طویل وقت لگ جاتا ہے۔
نظامِ انصاف کی سست روی کے باعث ایسے مقدمات اکثر کئی کئی سال تک زیرِ سماعت رہتے ہیں۔
بہت سے معاملات میں ٹرائل عدالتیں متنازع مقدمات میں بریت کا فیصلہ دینے کے بجائے ملزم کو سزا سنا دیتی ہیں، تاکہ بعد میں اعلیٰ عدالتیں شواہد کا دوبارہ جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کریں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بے شمار افراد اپنی سزا کالعدم ہونے سے پہلے کئی سال جیل میں گزار دیتے ہیں۔ اس عرصے میں نہ صرف ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ بھی شدید ذہنی، معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ندیم مسیح اپنی زندگی کے دس قیمتی ماہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ اس دوران ان کے خاندان نے شدید ذہنی اذیت، معاشی مشکلات اور غیر یقینی حالات برداشت کیے۔
اگرچہ عدالت نے انہیں باعزت بری کر دیا ہے، لیکن ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔
پاکستان میں توہینِ رسالت کے الزامات کا سامنا کرنے والے بہت سے دوسرے افراد کی طرح ندیم مسیح کو رہائی کے بعد بھی اپنی جان کو لاحق سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ یہ مقدمہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ توہینِ رسالت کا الزام صرف عدالت کے اندر ہی نہیں بلکہ عدالت سے باہر بھی ایک شخص کی زندگی پر دیرپا اور تباہ کن اثرات چھوڑ سکتا ہے۔