پاکستان میں توہینِ مذہب کا گھناؤنا دھندا: ٹریپنگ، تشدد ، قتل اور پراسرار ریاستی خاموش

بلاسفیمی گینگ اور ایف آئی اے کی طرف سے ٹریپنگ، اغواہ اور پھر مارے جانے والے نوجوانوں پر بدترین تشدد پوسٹ مارٹم رپورٹس, دستاویزات سے ثابت

راؤ عبد الرحیم نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کو بے وقوف بنایا اور دونوں ادارے نامعلوم وجوہات کی بنا پر بخوشی بن بھی گئے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے راؤ عبد الرحیم کی چالاکی کو جانچتے ہوئے تین جولائی کے آرڈر کو معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

مگر راؤ عبد الرحیم نے اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کے سامنے یہ تاثر قائم کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس کے خلاف تمام احکامات کو معطل کر دیا گیا ہے۔

قندیل عظیم

چاروں نوجوان، جنہیں اغوا کے فوراً بعد قتل کر دیا گیا یا جو بعد ازاں حراست کے دوران بلاسفیمی بزنس گروپ اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (اب این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار گئے، ان سب کو ہنی ٹریپنگ کوئین "ایمان” نے ٹریپ کیا تھا۔ یہ انکشاف فیکٹ فوکس کی ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

مار دیے جانے والے ان چاروں نوجوانوں کو پاکستان کے بلاسفیمی بزنس گروپ نے ایف آئی اے کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے، ہنی ٹریپنگ کے ذریعے پھنسایا اور ان پر توہینِ مذہب کے الزامات عائد کیے تھے۔

تحقیقاتی صحافت کو سپورٹ کریں ۔ ۔ ۔ فیکٹ فوکس کو گوفنڈ می پر سپورٹ کریں

https://GoFundMe.com/FactFocus

ان ملزمان کی جیل منتقلی کے وقت کے میڈیکل ریکارڈ، بعد ازاں تیار ہونے والی میڈیکل رپورٹس، دیگر قیدیوں کے بیانات، اور بعض کیسز میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں کہ ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اغوا کے فوراً بعد، چاہے وہ بلاسفیمی گینگ کے ہاتھوں ہو یا ایف آئی اے کے ذریعے سفاکانہ اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کیس میں اس تشدد کا مقصد اعترافی بیانات حاصل کرنا تھا۔ شواہد مزید یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار نوجوان قیدیوں کو نہایت ذلت آمیز اور غیر انسانی حراستی حالات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں پنجرے نما کوٹھڑیوں میں قید رکھنا اور مسلسل تذلیل شامل تھی۔

حراست کے دوران تشدد یا موت کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ تشدد کے فریق ہونے کے ناطے، پاکستان نے نومبر دوہزار بائیس میں "ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ” نافذ کیا۔ تاہم عملی طور پر اس قانون پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی جسے پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراستی تشدد کے کیسز درج کرنے اور ان کی تحقیقات کا خصوصی اختیار حاصل ہے، اکثر اس معاملے میں دی جانے والی درخواستوں کو وصول ہی نہیں کرتی۔ صرف چند کیسز ایسے ہیں جنہیں سخت عدالتی احکامات یا بااثر سرکاری شخصیات کی مداخلت کے بعد ایف آئی اے نے انویسٹی گیشن کے لئے قبول کیاقانون کے تحت حراستی تشدد کے مقدمات کی تحقیقات کا خصوصی اختیار ایف آئی اے کے پاس ہے، تاہم یہ تحقیقات نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کی نگرانی میں کی جانی چاہئیں۔

ایکٹ کی دفعات آٹھ اور نو کے مطابق، تشدد کی سزا پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ ‘تین سو بتیس’ کے تحت مقرر ہے، جس کے تحت دس سال تک قید ہو سکتی ہے، جبکہ حراستی موت کی سزا دفعہ ‘تین سو دو’ کے تحت موت یا عمر قید ہے۔تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ بلاسفیمی سے متعلقہ زیادہ تر حراستی اموات خود ایف آئی اے کے افسران کے مبینہ تشدد کے باعث ہوتی ہیں۔ ایسے نظام میں، جیسا کہ پاکستان میں رائج ہے، یہ سوال سنجیدہ اور بدستور حل طلب ہے کہ ایف آئی اے اپنے ہی اہلکاروں کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کیسے کر سکتی ہے؟

حالیہ دنوں میں سینئر این سی سی آئی اے افسران، جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چودھری اور ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان شامل ہیں، کے خلاف دیگر کیسز میں کرپشن کے سنگین الزامات اور شواہد سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ افسران پہلے بھی بلاسفیمی بزنس گروپ کے ارکان کے ساتھ قریبی روابط رکھتے تھے اور منظم طور پر توہینِ مذہب کے جال بچھانے، غیر قانونی گرفتاریاں کرنے اور اعترافی بیانات حاصل کرنے کے لیے شدید تشدد کے استعمال میں سہولت کاری کرتے رہے۔ این سی سی آئی اے کے اہلکار حراست میں تشدد کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں بھی ملوث رہے، لیکن اس کے باوجود کسی بھی ملوث افسر کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

چار متاثرین میں سے راولپنڈی کے سید عبداللہ شاہ کو دوہزاربائیس میں پھنسایا گیا اور شدید تشدد کے نتیجے میں فوری طور پر قتل کر دیا گیا۔ ایک تفصیلی پولیس تحقیقات کے مطابق، بلاسفیمی بزنس گروپ کے سربراہ راؤ عبد الرحیم کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

کراچی کے سوہان خان کو بھی دوہزارتئیس میں اسی طرح جال میں پھنسایا گیا اور اغوا کے پندرہ دن کے اندر ہولناک تشدد کے نتیجے میں  وہ دم توڑ گئے۔

لکی مروت کے سفیر اللہ کو بھی دوہزارتئیس میں پھنسایا گیا۔ وہ کئی ماہ جیل میں زندہ رہے، مگر آخرکار لاہور کی کیمپ جیل میں مسلسل غفلت اور غیر انسانی سلوک کے باعث وفات پا گئے۔

فیصل آباد کے سید علی حسنین کو دوہزار چوبیس میں پھنسایا گیا اور سات ہفتوں کے اندر شدید اور غیر انسانی تشدد کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا۔

گزشتہ سال اسلام آباد میں فیکٹ فوکس انویسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے کی گئی ایک جامع تحقیقات میں “ایمان” نامی ہنی ٹریپ کوئین کی شناخت کومل اسماعیل کے طور پر کی گئی، جو اسلام آباد کی رہائشی اور اصل میں کشمیر کے علاقے  میرپور سے تعلق رکھتی ہے۔ دستاویزات اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ “ایمان” بنیادی طور پر ایک پاکستانی موبائل نمبر 03136431397 استعمال کرتی تھی۔ کومل اسماعیل بلاسفیمی بزنس گروپ کے اہم کارندوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے سربراہ راؤ عبد الرحیم اور شیراز احمد فاروقی کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتی پائی گئی ہے۔

سوہان خان، کراچی

سوہان خان کو چودہ مئی دوہزارتئیس کو بلاسفیمی بزنس گروپ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی کے ساتھ ملی بھگت سے اغوا کیا اور دیگر توہینِ مذہب کے مقدمات کی طرح اس سے اعترافی بیان حاصل کرنے کے لیے سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔  اگرچہ اسے چودہ مئی کو اغوا کیا گیا، مگر اس کی سرکاری گرفتاری پندرہ مئی دوہزارتئیس کو درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 13/2023 (مدعی: محمد علی صدیقی) کے تحت ظاہر کی گئی۔  پندرہ مئی کو درج ہونے والی ایف آئی آر میں سوہان کا نام موجود نہیں تھا اور اس کا نام بعد میں ضمنی چالانوں کے ذریعے شامل کیا گیا۔واقعات کی یہ ترتیب، چودہ مئی کو حراست، پندرہ مئی کو ایف آئی آر کا اندراج، اور ایف آئی آر کے بجائے بعد میں ضمنی میں نام شامل کرنا، واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گرفتاری کے وقت ایف آئی اے اہلکاروں کے پاس سوہان خان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور انہوں نے تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے اعترافی بیانات کی بنیاد پر مقدمہ گھڑنے کی کوشش کی۔

سوہان خان کو 14 مئی کو اغوا کیا گیا، 15 مئی کو ایف آئی آر درج ہوئی (جس میں اس کا نام شامل نہیں تھا)، اور 15 مئی کو ہی گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا۔ واقعات کی یہ ترتیب ثابت کرتی ہے کہ این سی سی آئی اے (NCCIA) کے پاس اس کے خلاف کوئی شواہد موجود نہیں تھے اور انہوں نے تشدد کے ذریعے ثبوت گھڑنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں اس کا نام "زمنی” چارج شیٹس میں شامل کیا گیا۔

سوہان کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے آٹھ دن تک اپنی تحویل میں رکھا، جہاں اسے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے بعد بائیس مئی دوہزارتئیس کو اسے ملیر سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔ فیکٹ فوکس نے ملیر سینٹرل جیل کے متعلقہ افسر سے رابطہ کیا۔ سرکاری ریکارڈ چیک کرنے کے بعد اس نے تصدیق کی کہ جیل میں داخلے کے وقت کیے جانے والے طبی اور جسمانی معائنے (ابتدائی میڈیکل چیک اپ) جو تمام نئے قیدیوں کے لیے ایک معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) ہے، کے مطابق سوہان خان کے جسم پر واضح نیل اور تشدد کے نشانات موجود تھے۔ اس افسر نے بتایا کہ کوئی بھی شہری سندھ کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سے اجازت لے کر یہ سرکاری ریکارڈ دیکھ سکتا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سوہان کی "ایمان” (کومل اسماعیل) کے ساتھ چھ ماہ سے واٹس ایپ کے ذریعے ایک "ریلیشن” قائم تھا۔ وہ اسے اسلام آباد آ کر ملنے پر اصرار کرتی رہی، لیکن سوہان سفر کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ بعد ازاں کومل نے کراچی آ کر اس سے چودہ مئی دوہزارتئیس کو ہائپر اسٹار مال میں ملنے پر آمادگی ظاہر کی۔ سوہان خان کے ایک قریبی دوست نے اس کا آخری وائس نوٹ شیئر کیا، جس میں وہ کومل کے کراچی آنے اور اس سے ملاقات کرنے کا ذکر کر رہا تھا، جس میں سوہان نے اپنے دوست کو بتایا کہ: وہ (ایمان / کومل اسماعیل) مجھ سے ملنے کے لیے اپنے کراچی میں مقیم بھائی سے ملنے کا بہانہ بنا کر آ رہی ہے۔ اس کا بھائی بحریہ ٹاؤن میں رہتا ہے اور میری اس کے ساتھ پندرہ سے بیس منٹ ویڈیو کال پر بات بھی ہوئی تھی

سوہان کا اپنے دوست کو بھیجا گیا آخری وائس نوٹ، جس میں اس نے کومل کے کراچی آنے اور اس سے ملاقات کے اپنے منصوبے کے بارے میں بتایا۔

سوہان نے کومل سے ملاقات کا انتظام کیا اور اپنے ایک دوست کے ہمراہ مال پہنچا۔ اس کے دوست نے اسے داخلی دروازے پر اتارا جبکہ وہ خود گاڑی پارک کرنے چلا گیا۔ پارکنگ ایریا سے اس نے دیکھا کہ سوہان اچانک بھاگ رہا ہے، چند سادہ لباس افراد اس کا تعاقب کر رہے ہیں، اور بالآخر اسے پکڑ لیا گیا۔

ایک ادارے کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سوہان کا رابطہ "ایمان” (کومل اسماعیل) سے تھا۔ ایمان ایک ایسا فون نمبر استعمال کر رہی تھی جو پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کی خورشید مائی نامی خاتون کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔ یہ نمبر حاصل کرنے کے لیے اس خاتون کا نام استعمال کیا گیا اور دستاویزات میں جعلسازی کی گئی۔ فیکٹ فوکس کی جانب سے اس مخصوص دھوکہ دہی اور جعلسازی کی بارہا نشاندہی کے باوجود، کسی بھی سرکاری ادارے نے اس حوالے سے کوئی کارروائی شروع نہیں کی۔

"ایمان” کے زیرِ استعمال فون نمبر، جو خورشید مائی کے نام پر رجسٹرڈ تھا، کا کال ریکارڈ ڈیٹا واضح طور پر سوہان کے ساتھ اس کے رابطے کو ظاہر کرتا ہے۔ سوہان بعد ازاں بلاسفیمی بزنس گروپ/ این سی سی آئی اے کے شدید اور غیر انسانی تشدد کے نتیجے میں وفات پاگیا۔

"ایمان” کے زیرِ استعمال فون نمبر کا کال ریکارڈ ڈیٹا واضح طور پر سوہان کے ساتھ اس کے رابطے کو ظاہر کرتا ہے۔ سوہان بعد ازاں بلاسفیمی بزنس گروپ/ این سی سی آئی اے کے شدید اور غیر انسانی تشدد کے نتیجے میں وفات پاگیا۔

YouTube player
مزید دستاویزات، جن میں "ایمان” (کومل اسماعیل) اور سوہان کے درمیان کی گئی چیٹ کے وائس نوٹس شامل ہیں، ان کے قریبی تعلق کی تصدیق کرتے ہیں۔

YouTube player
"ایمان” (کومل اسماعیل)، جو سوہان کے ساتھ قریبی تعلق میں تھی، جیسا کہ اس وائس میسج سے بھی  واضح ہے، اس نے سوہان پر زور دیا کہ وہ اس سے ملاقات کا پلان بنائے۔

"ایمان” اور سوہان کے درمیان قریبی تعلق اس وائس میسج سے بھی ظاہر ہوتا ہے، جس میں اس نے اس بات پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا کہ سوہان مسلسل اس سے بالمشافہ ملاقات سے انکار کر رہا تھا۔سوہان کی فیملی کے ایک فرد کے مطابق، سوہان کے اغوا کے بعد فیملی کو نہ تو اس سے ملاقات کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اس کے لیے وکیل مقرر کرنے دیا گیا۔ سوہان کو گلستانِ جوہر کے ایک دفتر میں رکھا گیا، جہاں فیملی کو ایک شخص کی جانب سے فون کال کے ذریعے ملاقات کے لیے بلایا گیا، جس نے خود کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا افسر بتایا۔ مقام پر پہنچنے پر فیملی کے افراد کو چھ گھنٹے انتظار کرایا گیا مگر پھر بھی انہیں سوہان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

چند دن بعد، سوہان کو ایک غیر شناخت شدہ سرمئی رنگ کی کار میں ایک مجرم کی طرح گھر لایا گیا، اس کا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا اور اس کے ہمراہ ایف آئی اے کے افسر وزیر بھٹو تھے۔ اس دن ایف آئی اے کے اہلکاروں نے سوہان کے تمام آلات ضبط کر لیے۔ سوہان کے بھائی نے اصرار کیا کہ انہیں سوہان کا چہرہ ایک بار دیکھنے دیا جائے تو ایف آئی اے کے افسر نے سوہان کے  چہرے سے کپڑا ہٹایا تو اس کا چہرہ شدید تشدد زدہ تھا۔ سوہان نے اپنے خاندان سے فریاد کی کہ وہ بے قصور ہے اور اسے پھنسایا گیا ہے۔

ایک بار پھر ایف آئی اے کے اہلکاروں نے سوہان کے خاندان کو کہا کہ وہ گلستانِ جوہر کے دفتر میں اسے دیکھ سکتے ہیں، لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو سوہان کہیں نہیں تھا۔ خاندان نے پورا دن انتظار کیا، صبح انہیں  بتایا گیا کہ سوہان کو عدالت لے جایا گیا ہے اور شام کو بتایا گیا کہ اسے اسلام آباد لے جایا گیا ہے۔سوہان کو بائیس مئی دوہزارتئیس کو ملیر سینٹرل جیل کے حکام کے حوالے کیا گیا اور صرف آٹھ دن بعد، یکم جون دوہزارتئیس کو بلاسفیمی بزنس گروپ اور ایف آئی اے سائبر کرائم افسران کے شدید تشدد کے نتیجے میں سوہان خان  وفات پا گیا۔ ساتھی قیدیوں وحید اور حماد نے فیکٹ فوکس کے ساتھ انٹرویو کے دوران بتایا کہ سوہان خان کو بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کو بجلی کے جھٹکے دیئے گئے اور لکڑی کی چھڑیوں سے بد فعلی کی گئی، جس سے اسے شدید اندرونی چوٹیں آئیں۔

ملیر سینٹرل جیل میں اپنے آخری دنوں میں وہ نہایت نازک حالت میں تھا، کھانے کے قابل نہیں تھا اور جسمانی زخم واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔سوہان کی وفات کے بعد، جب اس کا جسد خاکی  آخری رسومات ( جنازہ )کے لیے گھر لایا گیا، تو بلاسفیمی بزنس گروپ کے ارکان پڑوسیوں سے رابطہ کر رہے تھے تاکہ خوف اور دھمکی کے ذریعے خاندان کے لیے مشکلات پیدا کریں اور وہ قتل کے کیس کی پیروی نہ کریں۔ ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ (اب این سی سی آئی اے) کے افسران اور بلاسفیمی گینگ کی طرف سے خوف کا ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ پڑوسی سوہان خان کی فیملی سے دور ہو گئے اور کوئی بھی آخری رسومات انجام دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ بلاسفیمی بزنس گروپ اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اہلکاروں نے اس طرح یقینی بنایا کہ سوہان خان کے قتل کا کیس نہ تو تحقیق ہو اور نہ ہی مجرم سزا پائیں۔

فیکٹ فوکس نے وزیر بھٹو سے بیان کے لیے رابطہ کیا، کیونکہ انہیں دیگر وکٹم نوجوانوں کے کیسز میں اور سوہان کے دوستوں کی جانب سے بھی اسی تشدد کی کارروائی میں ملوث بتایا گیا تھا۔

وزیر بھٹو سے  براہِ راست سوال کیا گیا: آپ نے سوہان خان پر تشدد کیوں کیا؟

ان کا جواب بے لاگ تھا:

"سوہان خان گستاخ تھا۔ آپ توہین کرنے والوں کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ فلسطینیوں کے حق میں آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔۔۔۔؟

جب NCCIA کے افسر وزیر بھٹو سے سوہان خان پر مبینہ تشدد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے الزامات کا جواب دینے کے بجائے کہا:
“سوہان خان گستاخ تھا۔ آپ گستاخوں کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ آپ فلسطینیوں کے لیے
آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔

وزیر بھٹو نے سوہان خان پر تشدد کا انکار نہیں بلکہ ایک طرح سے اعتراف کیا۔ ایک موقع پر انہوں نے فیکٹ فوکس کو بتایا کہ سوہان خان دل کے دورے کی وجہ سے فوت ہوا، لیکن جیل حکام اور سوہان کے خاندان نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کیا۔ جب فیکٹ فوکس نے وزیر بھٹو سے یہ مخصوص سوال کیا کہ این سی سی آئی اے کے دائرہ کار میں یہ کیسے آتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ گستاخ کون ہے؟ تو انہوں نے اچانک گفتگو ختم کر دی اور واٹس ایپ پر اپنے پیغامات ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیے۔ فیکٹ فوکس نے اس رابطے کے ریکارڈ محفوظ کر لیے، کیونکہ وزیر بھٹو نے اپنا آفیشیل مئوقف پیش کیا تھا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی ایاز مہر سے بھی سوہان خان کیس پر رائے کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے جارحانہ انداز میں جواب دینے سے انکار کیا اور عوامی دلچسپی اور انسانی حقوق کے معاملات پر سوالات کا جواب دینے کی بجائے انتہائی توہین آمیز انداز غلیظ الفاظ استعمال کیے جن کا ثبوت فیکٹ فوکس کے پاس موجود ہے اور کسی بھی تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کیاجا سکتا۔ فیکٹ فوکس سوہان خان کی فیملی کے ساتھ رابطہ میں ہے  مگر وہ شدید صدمے میں اور خوف زدہ ہیں۔ اب بھی وہ عوامی سطح پر سامنے آنے کے لیے تیار نہیں، جب تک کہ حکومت کی طرف سے انصاف اور ان کی زندگیوں کی  حفاظت کی ٹھوس یقین دہانی نہ کرائی جائے.

سفیر اللہ، لکی مروت

لکی مروت کے سفیر اللہ پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا اور وہ اکتیس دسمبر دوہزارتئیس کو لاہور کی کیمپ جیل میں بائیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے (FIR نمبر 53/2023، مدعی نعمان یوسف)۔ سفیر کے خاندان کے دوستوں نے فیکٹ فوکس کو بتایا کہ سفیر اللہ ذیابیطس کا شکار تھا، جس کی وجہ سے جیل میں تشدد اور سخت حالات کی وجہ سے وہ خاص طور پر کمزور تھا۔

بلاسفیمی انٹریپمنٹ یا عملی طور پر موت کی سزا

پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام میں پابند سلاسل قیدیوں کو  اپنے مقدمات کے مکمل ہونے تک اکثر کئی سال جیل میں انتظار کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ بے قصور ہوں۔ الزامات کی حساس نوعیت کے باعث انہیں دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جاتا ہے تاکہ مذہبی بنیادوں پر ہونے والے حملوں سے بچا جا سکے۔ اس صورتحال میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے سبب، ایسے قیدی اکثر انتہائی چھوٹے اور الگ تھلگ کمروں میں قید کیے جاتے ہیں، جو پنجرے جیسے لگتے ہیں، اور اس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت مزید متاثر ہوتی ہے۔سفیر اللہ نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ اس کا رابطہ ایک لڑکی "ایمان” سے تھا اور وہ لکی مروت میں اس سے ملنے کا پلان بنا رہی تھی۔ اس بات کے کچھ ہی وقت بعد، سفیر اللہ لاپتہ ہو گیا۔ بعد میں اس نے اپنے خاندان کو بتایا کہ ایمان نے اسے ملاقات کے لیے بلایا اور ایک سفید کلٹس میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ جب سفیر اللہ گاڑی کے قریب پہنچا، تو اسے ایک داڑھی والے شخص اور ایک مقامی عالم دین نے اغوا کر لیا، زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور لاہور منتقل کر دیا۔

ایک سفید سوزوکی کلٹس، جو راؤ عبد الرحیم کی ملکیت ہے، متعدد اغوا کی کاروائیوں میں استعمال ہوئی، جن میں سے کچھ کیسز میں متاثرین اغوا کے فوراً بعد یا چند دنوں میں قتل کر دیے گئے۔ اس اغوا کے طریقہ کار کی واضح مثال لیہ یونیورسٹی کے طالب علم عمر لیاقت کے اغوا کی CCTV فوٹیج سے سامنے آئی، جو فیکٹ فوکس نے پچھلے سال جاری کی تھی۔ اس فوٹیج میں سفید سوزوکی کلٹس دکھائی گئی، جو راؤ عبد الرحیم کے نام پر رجسٹرڈ تھی، جسے ایمان (کومل) چلا رہی تھی اور اس کے ساتھ بلاسفیمی گینگ کا سرکردہ رہنما شیراز فاروقی موجود تھا۔

ابتدائی عدالتی سماعت کے دوران 22 سالہ سفیر اللہ، صحت مند اور پرامید دکھائی دے رہے ہیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان پر لگائے گئے توہینِ مذہب کے الزامات محض غلط فہمی پر مبنی ہیں.

فیکٹ فوکس نے سفیر اللہ کے سیل میٹس سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ وہ لاہور کی کیمپ جیل میں چار دن تک بہت زیادہ بخار میں مبتلا رہا۔ جیل حکام اس کی ذیابیطس کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ تھے، تاہم اس دوران اسے کوئی طبی علاج فراہم نہیں کیا گیا۔کیمپ جیل میں قیدیوں کو ہر ہفتے اپنے خاندان سے بیس منٹ کی فون کال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ایک ایسی کال کے دوران، سفیر اللہ کے سیل میٹس نے اس کے خاندان کو اس کی خراب ہوتی ہوئی صحت کے بارے میں آگاہ کیا۔ جب اس کی حالت نازک ہو گئی، تو اسے آخرکار لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم، اس کی شدید حالت کے باوجود فوری طور پر کوئی بیڈ دستیاب نہیں تھا۔ سفیر اللہ ہسپتال پہنچنے کے تقریباً چار سے پانچ گھنٹے بعد وفات پا گئے۔

سفیر اللہ کا میڈیکل ایمرجنسی فارم، جو کیمپ جیل کے افسران نے تیار کیا اور فیکٹ فوکس نے خاندان کے دوستوں کے ذریعے حاصل کیا۔ جیل حکام نے اسے سروسز ہسپتال منتقل کرنے میں تاخیر کی جب وہ نازک حالت میں تھا اور اس کی عمر غلط درج کی، ممکنہ طور پر زیادہ عمر دکھانے کے لیے
(فیکٹ فوکس نے نادرا کے ریکارڈ سے عمر کی تصدیق کی کہ وہ وفات کے وقت بائیس سال تھی)

سفیر اللہ کے بزرگ والد، جو سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے تھے، ہسپتال میں اپنے بیٹے کے آخری لمحات میں اس کے ساتھ بیٹھے ہیں اور اس کے ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں۔

فیکٹ فوکس نے لاہور کی کیمپ جیل کے سپرنٹنڈنٹ، ظہیر ورک، سے رابطہ کیا تاکہ سفیر اللہ کی وفات کے حوالے سے وضاحت حاصل کی جا سکے۔ فراہم کردہ جواب زیادہ تر سطحی نوعیت کا تھا اور صرف جیل میں قیدیوں کی دیکھ بھال کے عمومی طریقہ کار اور معیار پر مرکوز تھا، جو بظاہر کیمپ جیل لاہور میں نافذ کیے جاتے ہیں۔ یہ جواب اس بنیادی سوال کو حل کرنے میں ناکام رہا کہ کس طرح ایک پہلے صحت مند، 22 سالہ نوجوان، جس کی ذیابیطس کنٹرول کی جارہی تھی، ریاستی تحویل میں رہتے ہوئے ڈائیبیٹک کیٹوایسڈوسس کے نتیجے میں موت کے درجے تک پہنچ گیا۔ فیکٹ فوکس کو کوئی سرکاری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

سفیر اللہ کے والد اپنے 22 سالہ بیٹے کا جنازہ لے جاتے ہوئے، جو بلاسفیمی بزنس گروپ کے تشدد اور پھر کیمپ جیل لاہور میں جانے کے بعد  مزید غفلت کے باعث وفات پا گیا۔سفیر اللہ ایک نچلے متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے بزرگ والدین کے واحد کفیل تھے، کیونکہ ان کا بھائی ذہنی طور پر معذور تھا اور کام کرنے کے قابل نہیں تھا۔

وفات کے وقت سفیر اللہ صرف 22 سال کے تھے۔ وہ ایک چھوٹے بیٹے کے والد تھے، جو اس وقت شیر خوار تھا اور اب پانچ سال کا ہے۔ یتیم بچہ اس وقت سفیر اللہ کے بزرگ والدین کے ساتھ رہ رہا ہے، کیونکہ سفیر اللہ کی بیوی ان کی وفات کے بعد دوبارہ شادی کر چکی ہیں۔

سفیر اللہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے جال میں پھنسنے اور لاہور کی کیمپ جیل میں غفلت کے باعث موت سے پہلے، اپنی معمول کی زندگی میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے۔

سید علی حسنین، فیصل آباد

سید علی حسنین ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ چوبیس اپریل دوہزارچوبیس کو ان پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا (FIR نمبر 63/24، مدعی محمد عثمان صدیقی) اور وہ ایمان (کومل اسماعیل) کے جال میں پھنس گئے۔ ان کے دوستوں کے بیانات اور کال ریکارڈز بھی ان کے کومل کے ساتھ رابطے کی تصدیق کرتے ہیں۔

"ایمان” کے زیرِ استعمال فون نمبر، جو مظفر گڑھ کی خورشید مائی نامی خاتون  کے نام پر رجسٹرڈ تھا، اس نمبر کے کال کا  ریکارڈ ڈیٹا واضح طور پر سید علی حسنین کے ساتھ ہنی ٹریپنگ کوئین ایمان کے رابطے کو ظاہر کرتا ہے، جو بعد میں بلاسفیمی بزنس گروپ/ این سی سی آئی اے کے شدید اور انسانیت سوز تشدد کے نتیجے میں وفات پا گئے۔

سید علی حسنین کو چوبیس اپریل دوہزارچوبیس کو فیصل آباد سے سفید کلٹس میں اغوا کیا گیا اور راولپنڈی میں موجود ایک ٹارچر سیل میں منتقل کیا گیا۔ انہیں بلاسفیمی بزنس گروپ کے ارکان اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں کے ہاتھوں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جیسا کہ دیگر متاثرین کے ساتھ کیا گیا۔ ستائیس اپریل دوہزارچوبیس کو سید علی حسنین کو انتہائی خراب جسمانی حالت میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔

سید علی حسنین کی فیملی کا ایک قریبی دوست جو اس مشکل صورتحال کے دوران علی حسنین کی والدہ کی مدد کر رہا تھا اس کے مطابق  تشدد کے دوران علی حسنین کو اتنے شدید اندرونی زخم آئے تھے کہ وہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا اور اپنی عدالتی سماعتیں بھی مس کر گیا۔ باوجود اس کے کہ ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی تھی، اڈیالہ جیل کے طبی عملے نے صرف درد کم کرنے والی (پین کلرٹیبلٹس)  ادویات دیں اور کوئی مؤثر طبی علاج یا مزید تشخیص نہیں کی۔ 9 جون دوہزارچوبیس کو حسنین کی حالت انتہائی خراب ہو گئی۔ رات کے وقت ساتھی قیدیوں نے جیل عملے کو اس سنگین صورتحال کی طرف توجہ دلانے کے لیے الرٹ کیا۔ دیگر قیدیوں کے مطابق، علی حسنین اسی رات جیل کے اندر دم توڑ گیا تھا۔ تاہم، ان کے خاندان کو جیل حکام کی طرف سے یہ  غلط فہمی دی گئی کہ وہ ابھی بھی زندہ ہے اور اڈیالہ جیل کے حکام انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں۔فیکٹ فوکس نے سید علی حسنین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کی، جو ان کی وفات کے بعد تیار کی گئی۔ سات ہفتے اڈیالہ جیل میں گزارنے کے باوجود، ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، جیسا کہ پوسٹ مارٹم میں درج ہے، خاص طور پر نچلے حصے (groin area) میں نیلے داغ۔

سید علی حسنین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا متعلقہ اقتباس، جو ان کے جسم پر واضح نیلے نشانات کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر نچلے حصے میں، جو اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے سات ہفتے بعد بھی موجود تھے، اور یہ تشدد NCCIA کے اہلکاروں اور BBG کے ارکان کی جانب سے کیا گیا تھا۔

جس طبی عملے نے سید علی حسنین کا معائنہ کیا، انہوں نے سفارش کی کہ حیاتیاتی نمونے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور کو بھیجے جائیں تاکہ اندرونی زخموں کی شدت کا تعین کیا جا سکے۔ تاہم، ایسے کیسز میں فارنزک سائنس ایجنسی کے حتمی فارنزک رپورٹ حاصل کرنے  میں اوسط تقریباً دو سے تین سال تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سید علی حسنین کی وفات کے بعد، اڈیالہ جیل کے عملے نے ایک داخلی جائزہ (انٹرنل ریویو) کیا، لیکن یہ جائزہ بدنیتی کے ساتھ کیا گیا اور واضح طور پر  گمراہ کن تھا۔

اڈیالہ جیل کے اہلکاروں نے سید علی حسنین کی موت کی وجوہات کو مبینہ طور پر "پیشاب رکنے کی ہسٹری” (history of urinary retention) سے جوڑ کر کم تر دکھانے کی کوشش کی، جبکہ ان کے جسم کے نچلے حصے اور دیگر حصوں پر پائے جانے والے وسیع زخم اور نیلے داغ مکمل طور پر نظر انداز کیے گئے۔ یہ زخم اور نیلے داغ فارنزک رپورٹ میں واضح طور پر درج تھے اور سید علی حسنین کی آخری رسومات کے دوران بھی جسم پر واضح طور پر نظر آئے۔

ڈیالہ جیل کے اہلکاروں نے حسنین کی وفات کی تحقیقات بد نیتی کے ساتھ کی، ان کی موت کا الزام "پیشاب رکنے کی تاریخ” پر ڈال دیا، اور ان کے جسم پر موجود نیلے داغ اور NCCIA سے وصول ہونے والی حالت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ علی حسنین کو گرفتاری سے پہلے کسی بھی ایسی طبی حالت کا سامنا نہیں تھا۔ یہ پیچیدگیاں صرف بلاسفیمی بزنس گروپ اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ  کے اہلکاروں کے ہاتھوں کیے گئے سفاکانہ اور انسانیت سوز تشدد کے بعد پیدا ہوئیں۔

فیکٹ فوکس نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر سے اس کیس پر بیان کے لیے رابطہ کیا، لیکن انہوں نے کوئی جواب دینے سے انکار کر دیا۔ علی حسنین کے جسم کی ویڈیوز اور تصاویر، جو ان کے آخری رسومات کے دوران لی گئی تھیں، ان کے جسم پر شدید اور غیر انسانی تشدد کے واضح آثار دکھاتی ہیں۔ اخلاقی اور پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر یہ مواد عوام کے لیے جاری نہیں کیے جا رہے۔ تاہم فیکٹ فوکس یہ تصاویر اور ویڈیوز کسی تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر بلاسفیمی بزنس گروپ اور ایف آئی اے کے ہاتھوں چند دنوں کے لیے حراست میں رکھنے اور ٹارچر کرنے کے بعد حسنین کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ علی حسنین اپنی بزرگ والدہ اور چھوٹی بہن کا واحد سہارے اور بنیادی کفیل تھا، جو فیصل آباد میں مقیم ہیں۔ ان کے والد علی حسنین کے بچپن میں ہی وفات پا چکے تھے۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات کے بعد، علی حسنین کی والدہ نے فیکٹ فوکس سے بات کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم پہلے ہی بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں مزید برداشت نہیں کرسکتے  کیونکہ انہیں خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں دی گئی تھیں۔

جب فیکٹ فوکس نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر سے رابطہ کیا اور جیل میں کسی قیدی کے داخلے کے وقت اختیار کیے جانے والے بنیادی طریقۂ کار یعنی ایس او پیز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ کسی بھی قیدی کی جیل میں آمد پر سب سے پہلا مرحلہ طبی معائنہ ہوتا ہے۔ تاہم جب اُن سے خاص طور پر توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے قیدیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مزید تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں کوئی شخص ان سے رابطہ کر کے ان کے دفتر میں ملاقات کا وقت طے کرے۔

سید عبداللہ شاہ، راولپنڈی

فیکٹ فوکس نے عبداللہ شاہ کے قتل پرتفصیلی رپورٹنگ کی۔ قتل کیس کی تفتیش میں لگی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق عبداللہ شاہ کو اسلام آباد کے ایف ٹین مرکز سے ایک لڑکی ایک سفید رنگ کی سوزوکی کلٹس کار میں رات آٹھ بج کر بارہ منٹ پر لے کر گئی۔ عبداللہ کی ایک لڑکی "ایمان” کے ساتھ فون پر دوستی تھی۔ عبداللہ کے دوستوں نے بھی اسے لڑکی کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا۔ عبداللہ لاپتہ ہو گیا اور جب اس کی لاش ملی تو اس کے والد نے قتل کا کیس درج کرایا۔ پولیس کی تحقیقات میں راؤ عبد الرحیم (بلاسفیمی گینگ کے سربراہ) کو اس کے قتل میں مرکزی ملزم قرار دیا گیا، جو کال ریکارڈز اور عبداللہ کی لاش ملنے کی جگہہ اور راؤ عبد الرحیم کی فون لوکیشن سے واضح ہوا۔ بعد میں، اس وقت کے ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر شاہ نے لاہور سے اسلام آباد آ کر راؤ کی مدد کی اور عبداللہ کے والد کو توہینِ مذہب کے مقدمے کے مقدمے میں پھنسا کر اسے مجبور کیا کہ وہ پولیس کے سامنے بیان دے دیں کہ وہ راؤ کو اپنے بیٹے کے قاتل کے طور پر مشکوک نہیں سمجھتے، اس بیان کی کوئی قانونی اہمیت نہ تھی۔ دیت کے قانون کے تحت عبداللہ شاہ کے ورثا قاتلوں کو معاف ضرور کر سکتے تھے مگر پولیس کو تفتیش روکنے یا اپنی مرضی کی سمت میں لے جانے کا نہیں کہہ سکتے تھے۔ پولیس تفتیش مکمل ہو چکی اور تمام حقائق سو فیصد واضح تھے۔ اس صورتحال میں بلاسفیمی گینگ کے سربراہ کو اس کیس سے وقتی آزادی ضرور مل گئی مگر ابھی پولیس تفتیش مکمل ہونا باقی ہے۔

جسٹس اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں بلاسفیمی گینگ اور ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ (اب این سی سی آئی اے) کی سرگرمیوں کی آزاد کمیشن کے قیام کے لیے ہونے والی لائیو سماعتوں میں، وکیل ہادی علی چٹھہ نے عبداللہ شاہ کے کیس کی نمائندگی کی۔ پولیس انسپکٹر منیر (کیس کے تفتیش کار) نے بھی حلفیہ بیان دیا۔

19 جون 2025 کو جج نے MIT کو حکم دیا کہ عبداللہ شاہ کے قتل کے کیس (FIR نمبر 342/2022) کی اپڈیٹ پیش کرے اور پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے ڈپٹی پراسیکیوٹر میں سے کسی کو عدالت میں حاضر کر کے اپ ڈیٹ فراہم کرنے کے لیے مقرر کریں۔

تین جولائی دوہزارپچیس کے حکم میں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقات کریں کہ کس طرح عبداللہ شاہ کے مارے جانے کے بعد عبداللہ شاہ کے والد کا نام اس توہینِ مذہب کے اس مقدمے میں شامل کیا گیا، جو اصل میں عبداللہ کے خلاف اس کی موت سے پہلے درج تھا، اور کس طرح وکیل راؤ عبد الرحیم کا نام اسلام آباد پولیس کی عبداللہ شاہ قتل کیس کی تفتیش سے خارج کر دیا گیا، حالانکہ تکنیکی اور ڈیجیٹل ثبوت اس کے ملوث ہونے کو بلا شک و شبہ ثابت کرتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے اقتباسات، جس میں اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ وہ تحقیق کریں کہ کس طرح عبداللہ شاہ کے والد کا نام اس توہینِ مذہب کے مقدمے میں شامل کیا گیا، جو اصل میں عبداللہ کے خلاف اس کی موت سے پہلے درج تھا، اور کس طرح وکیل راؤ عبد الرحیم کا نام عبداللہ شاہ کے قتل کیس سے خارج کر دیا گیا۔

پندرہ جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے بلاسفیمی بزنس گروپ اور این سی سی آئی اے (سابقہ ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ) کے اہلکاروں اور افسران کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کی ہدایت دی۔

چوبیس جولائی دوہزارپچیس کو راؤ عبد الرحیم کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے کمیشن قائم کرنے کے حوالے سے پندرہ جولائی کا سردار اعجاز اسحٰق کا حکم نامہ معطل کر دیا۔

چوبیس جولائی دوہزارپچیس کو ہی کومل اسماعیل پہلی بار سامنے آئیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور مدعی پیش ہوئی۔ کومل نے اپنی پٹیشن میں نہ صرف جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے کمیشن کے قیام کے حکم کو شریعتِ اسلامیہ کے خلاف قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا بلکہ تین جولائی دوہزار پچیس کے حکم کو معطل کرنے کیلیے بھی الگ سے التجا کی۔ تین جولائی کے حکم میں پہلے کومل اسماعیل کے بارے میں کچھ احکامات تھے اور پھر پولیس اور ایف آئی اے کو راؤ عبد الرحیم کو شواہد کے باوجود عبداللہ شاہ قتل کیس کی تفتیس سے نکالے جانے کی انکوئری کر کے رپورٹ چار ہفتوں میں عدالت میں جمع کروانے کے احکامات تھے۔

اپنے خلاف تین جولائی دوہزارپچیس کے آرڈر کے تحت پولیس اور ایف آئی اے کی تفتیش کے حکم کو خود سامنے آ کر چیلنج کرنے کی بجائے راؤ عبد الرحیم آخر کار "ایمان” یعنی کومل اسماعیل کو سامنے لے آئے اور ان کے ذریعے تین جولائی کے آرڈر کو معطل کرنے کی التجا کی۔ کیونکہ کومل کے بارے میں احکامات بھی اسی آرڈر میں دیے گئے تھے اور اگر عدالت تین جولائی کے اس آرڈر کو معطل کر دیتی تو راؤ عبد الرحیم کے خلاف احکامات خودبخود معطل ہو جاتے۔ یہ راؤ عبد الرحیم کی ایک قانونی چال تھی۔ مگر اس خاص نقظے پر کہ تین جولائی کے احکامات کو معطل کر دیا جائے، کی گئی التجا کو عدالت نے انتیس جولائی دوہزارپچیس کو مسترد کر دیا۔

مگر بلاسفیمی گینگ کے اثر رسوخ کا یہ عالم ہے کہ اعلٰی حکومتی ایوانوں میں تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اسلام آباد پولیس بلکہ ایف آئی اے کو بھی یہ تاثر دیا گیا کہ چوبیس جولائی کے ڈویژن بنچ کے فیصلے کے تحت صرف کمیشن بننے کا فیصلہ معظل نہیں ہوا بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تمام احکامات معطل ہو گئے ہیں اور اب تین جولائی دوہزار پچیس کے فیصلے کے تحت اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کی راؤ عبد الرحیم اور ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر شاہ کے خلاف انکوائریاں بھی جاری نہیں رہ سکتیں۔ اور عدالت عالیہ کے انتیس جولائی دوہزار پچیس کے حکم نامے کو چھپایا گیا جس کے تحت یہ والی مخصوص استدعا مسترد ہو چکی تھی۔

کومل اسماعیل پہلی مرتبہ 24 جولائی 2025 کو عوامی سطح پر سامنے آئیں، جب انہوں نے ایک درخواست دائر کی جس میں، دیگر امور کے ساتھ، جسٹس اعجاز اسحاق کے اس حکم کو بھی چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت عبداللہ شاہ کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم 3 جولائی کے اس حکم کے خلاف ان کی درخواست ڈویژن بینچ نے مسترد کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے لا آفیسر  نے بتایا کہ تین جولائی دوہزارپچیس کا حکم اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے دونوں کو پہنچا دیا گیا گیا اور دونوں سے چار ہفتوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کو کہا گیا تھا۔ تاہم، سات ماہ گزرنے کے باوجود کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔ فیکٹ فوکس نے بار بار ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس سے سید عبداللہ شاہ کے قتل کیس کے حوالے سے اپ ڈیٹس حاصل کرنے کی کوشش کی، خاص طور پر اس حکم

(Order No. 39, dated 3 July 2025)

کے تناظر میں، جس میں چار ہفتوں کے اندر تحقیقات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ایف آئی اے کے ترجمان عبدالغفور سے فیکٹ فوکس کی جانب سے پوچھا گیا کہ عدالت کے حکم کے تحت رپورٹ کیوں جمع نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ معاملہ "نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)” سے متعلق ہے۔ فیکٹ فوکس کے اصرار کے باوجود انہوں نے کوئی تفصیلات شیئر نہیں کیں۔

فیکٹ فوکس کی مزید تحقیقات اور عدالتی صورتحال:

فیکٹ فوکس نے اسی معاملے کے سلسلے میں اسلام آباد پولیس کے ترجمان جواد سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے فیکٹ فوکس کو آپریشنز ڈویژن کے ترجمان شریف اللہ خان سے رابطہ کرنے کو کہا۔ شریف اللہ خان نے بتایا کہ ان کے پاس کیس کا ریکارڈ موجود ہے اور انہوں نے مخصوص سوال کی وضاحت طلب کی۔

جب انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ شاہ قتل کیس میں تمام ڈیجیٹل شواہد کے باوجود مرحوم کے والد کو ایف آئی اے کی جانب سے ایک جھوٹے توہین مذہب کے کیس میں پھنسا کر پولیس کے سامنے ملزم کے حق میں بیان دلوایا گیا اور جب عدالت نے اس ضمن میں انکوائری کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تو مقررہ وقت میں انکوائری رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی، شریف اللہ خان نے کہا کہ وہ مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد جواب دیں گے۔ متعدد فالو اپ کوششوں کے باوجود بعد میں کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا.

سینئر ایڈووکیٹ عثمان وڑائچ نے فیکٹ فوکس کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تین جولائی دوہزارپچیس کا حکم اب بھی نافذ العمل ہے اور چوبیس جولائی دوہزارپچیس کے حکم کے ڈویژن بنچ کے فیصلے کے ذریعے صرف پندرہ جولائی کا کمیشن بننے کا حکم معطل کیا گیا ہے اور اس فیصلے کا تین جولائی کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔

"اگر ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس نے انکوئری رپورٹس جمع نہیں کروائیں، تو وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،” عثمان وڑائچ نے کہا۔

 

ایڈیٹوریل نوٹ:

فیکٹ فوکس کی ٹیم تسلیم کرتی ہے کہ کومل اسماعیل اس نیٹ ورک کی کارروائیوں میں ایک اہم اور فعال کردار ادا کرتی ہیں، جو نوجوان افراد کو نشانہ بناتا ہے۔تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ ان کو استعمال کرنے والے افراد نظام پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے پدر شاہی اور روایتی معاشرتی ڈھانچے میں۔ فیکٹ فوکس آئندہ بھی اس معاملے کی تحقیقات جاری رکھے گا اور حقائق پر مبنی، شفاف رپورٹنگ کا پابند رہے گا۔

ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے، تاکہ ان تمام خواتین کی شناخت کی جا سکے جو توہینِ مذہب سے متعلق ہنی ٹریپنگ آپریشنز میں ملوث ہیں اور ایسی خواتین کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے جو بلاسفیمی گینگ کے ارکان اور ان کے ہینڈلرز کے منصوبوں کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان خواتین اور ان افراد کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے جو ان کے جال میں پھنس کر موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔