فیکٹ فوکس کو انٹرویو میں اعتراف، کہا سب قانون کے مطابق ہے، ان خالی پلاٹوں کے کرائے پر ماہانہ آٹھ لاکھ ٹیکس دیتا ہوں
ن لیگ کی صوبائی حکومت نے سوسائٹی کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر چیف الیکشن کمشنر کے پلاٹوں کی کیٹیگری زبردستی "رہائشی” سے "کمرشل” تبدیل کروائی
ہاؤسنگ سوسائٹی کی نئی انتظامیہ نے کیٹیگری تبدیلی غیرقانونی قرار دے کر کینسل کر دی، صوبائی حکومت نے نئی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا
پہلے شریف فیملی کے قریبی ایک نسبتاً چھوٹے بزنس مین نے "کرایہ” دینا شروع کیا بعد میں خالد ریاض نے انتظام سنبھال لیا
احمد نورانی
پاکستان میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کے شراکت دار اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے قریبی، تیل کے شعبے کے نمایاں کاروباری شخص خالد ریاض، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو ماہانہ خالی پلاٹوں کے عوض30 لاکھ روپے ادا کر رہے ہیں۔
تحقیقاتی صحافت کو سپورٹ کریں ۔ ۔ ۔ فیکٹ فوکس کو گوفنڈ می پر سپورٹ کریں
https://GoFundMe.com/FactFocus

چیف الیکشن کمشنر یہ رقم ’’دو خالی پلاٹوں‘‘ کے ’’کرائے‘‘ کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ تاہم، فیکٹ فوکس کی ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آیا کہ ان دونوں خالی پلاٹوں ہیں گھاس پھوس اور جھاڑیاں اور بے ترتیب گھاس اگی ہوئی ہے اور تعمیرات یا کاروباری سرگرمی کا کوئی نام و نشان نہیں۔

رواں سال مئی میں شائع ہونے والی فیکٹ فوکس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ابدالین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (ACHS) میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ان کی اہلیہ رباب سکندر کے دو پلاٹ پہلے سوسائٹی کی مرکزی سڑک پر ایک دوسرے کے ساتھ یکجا کیے گئے اور پھر فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پنجاب حکومت نے سوسائٹی کی انتظامیہ اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سوسائٹی کے ماسٹر لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان پلاٹوں کی کو غیر قانونی طور پر رہائشی پلاٹوں سے کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کر دیا۔ اب بھی چیف الیکشن کمشنر کے ان دو اکٹھے کیے گئے پلاٹوں کے چاروں طرف رہائشی مکانات ہیں۔ ان پلاٹوں کی کیٹیگری رہائشی سے کمرشل ہو جانے کے بعد ملک کے ایک بڑے کاروباری شخص نے ان ’’کمرشل‘‘ پلاٹوں کے کرائے کی مد میں ماہانہ بھاری رقم ادا کرنا شروع کر دی۔ فیکٹ فوکس کی ٹیم نے موقع پر جا کر تصدیق کی کہ یہ پلاٹ مکمل طور پر خالی ہیں اور ان پر گھاس پھوس اور جھاڑیاں اگی ہوئی ہیں اور وہاں کسی قسم کی تعمیر یا کاروباری سرگرمی کا کوئی نشان نہیں۔
خالد ریاض، سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کی پاکستانی شراکت دار کمپنی گیس اینڈ آئل پاکستان (GO) کے مالک ہیں۔ اکتوبر 2023 کے اوائل میں، نواز شریف کے 11 اکتوبر کو برطانیہ سے روانہ ہونے اور اپنی خودساختہ جلاوطنی ختم کرنے سے چند روز پہلے، خالد ریاض نے لندن میں ماربل آرچ کے قریب اسٹین ہوپ پلیس میں حسن نواز کے دفتر میں ان سے ملاقات کی۔
فیکٹ فوکس نے رواں سال مئی میں پہلی بار خالد ریاض سے رابطہ کرکے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سکندر سلطان راجہ کے ساتھ ان کے لین دین اور انہیں ادا کی جانے والی بھاری رقوم کے بارے میں سوالات کیے۔ فیکٹ فوکس کی جانب سے خالد سے ان مالی تعلقات کے بارے میں سوالات کیے جانے کے فوراً بعد ان کی کمپنی (GO) پیٹرولیم کی آفیشیل ویب سائٹ اور اس سے منسلک سوشل میڈیا پیجز پر موجود بنیادی معلومات میں تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو گئیں۔ خالد، جن کا نام 2012 سے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے طور پر درج تھا، بعد میں صرف ڈائریکٹر کے طور پر ظاہر ہونے لگا، جبکہ کسی اور شخص کو سی ای او کے طور پر درج کر دیا گیا۔ [اس خبر کے آخر میں دی گئی ایک ویڈیو میں انٹرنیٹ آرکائیو کی وے بیک مشین کے ذریعے (GO) پیٹرولیم کی ویب سائٹ کے محفوظ شدہ سابقہ صفحات دکھائے گئے ہیں۔ ان صفحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 14 برس کے دوران خالد کا نام کمپنی کے سی ای او کے طور پر درج رہا ہے اور اب ہی تبدیل کیا گیا۔]
بینک لین دین کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھاری رقم ملک کے چیف الیکشن کمشنر کو ادا کی جا رہی ہے، جبکہ موقع پر کیے گئے دوروں سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ’’کمرشل‘‘ پلاٹوں پر نہ کوئی کاروباری سرگرمی ہو رہی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر ایسی سرگرمی ممکن ہے۔ 2025 میں ابدالین کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی نئی منتخب انتظامیہ نے چیف الیکشن کمشنر سکندر کے رہائشی پلاٹوں کو کمرشل قرار دینے کے سابقہ انتظامیہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واپس لے لیا۔ سابقہ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ صوبائی حکومت کے شدید دباؤ پر کیا گیا تھا۔ تاہم، بینک ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اس کے بعد بھی اپنے خالی پلاٹوں کا بھاری کرایہ وصول کرتے رہے۔
خالد ریاض کی فیملی کے شریف خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ خالد ریاض کے چھوٹے بھائی طاہر اقبال جٹ، جو خود بھی کاروباری شخص ہیں، مختلف مواقع پر شہباز شریف کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ خالد ریاض کو خود نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دفتر کے دورے کے موقع پر وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ [ویڈیو لنک] خالد ریاض کے بھائی طاہر اقبال جٹ اکثر پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد کے دفتر میں بھی نظر آتے ہیں۔



اگرچہ نواز شریف اور خالد ریاض کے درمیان قریبی تعلقات ہیں، تاہم اکتوبر 2023 کی ملاقات کا اہتمام ملک محمد احمد نے کیا تھا۔
ملک محمد احمد کے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات تھے۔ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد بھی وہ ان سے رابطے میں رہے اور جنرل باجوہ اور شریف خاندان کے درمیان اقتدار اور اختیارات کے باہمی سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے ملک محمد احمد، شریف خاندان اور جنرل باجوہ کے درمیان رابطے کا ایکاہم ذریعہ تھے۔ دوسری جانب، ملک محمد احمد نے جنرل باجوہ کے ساتھ اپنے دیرینہ اور قریبی تعلقات کا ہمیشہ اعتراف کیا، لیکن جنرل باجوہ اور شریف خاندان کے درمیان کسی سیاسی معاہدے میں سہولت کاری کی ہمیشہ تردید کی۔ ملک محمد احمد بالخصوص 2021 بہت سرگرم رہے۔
ملک احمد نے 2022 کے اوائل کی میں پاکستان میں ہونے والی سیاسی جوڑ توڑ میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق، وہ ایسی ملاقاتوں میں شریک ہوئے جن میں جنرل باجوہ نے سیاست دانوں کو سیاسی معاملات پر مشورے دیے۔ نومبر 2022 میں باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے یہ کردار جاری رکھا اور 2024 کے عام انتخابات سے پہلے ہونے والی کئی اہم سیاسی پیش رفتوں میں شریک رہے جن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور بااثر کاروباری و بیوروکریٹک اشرافیہ کے درمیان روابط قائم کرنا بھی شامل تھا۔ اکتوبر 2023 کے اوائل میں خالد ریاض اور نواز شریف کی ملاقات کا اہتمام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 2024 کے متنازع انتخابات کے بعد انہیں پنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنایا گیا۔

رواں سال مئی میں جب فیکٹ فوکس نے گیس اینڈ آئل پاکستان (GO) کے چیف ایگزیکٹو خالد ریاض سے رابطہ کیا تو انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے ساتھ اپنے تعلق کا اعتراف کیا، تاہم تفصیلات کے لیے فیکٹ فوکس کو کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار، عمار، سے رابطہ کرنے کو کہا۔ عمار نے ٹیکس گوشواروں اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے پلاٹ حاصل کرنے اور ان کا کرایہ ادا کرنے سے متعلق ڈیکلریشنز کی تفصیلات فراہم کرنے کا وعدہ کیا، تاہم، بار بار یاد دہانی کے باوجود عمار صاحب نے یہ دستاویزات کبھی فراہم نہیں کیں۔
آخری دفعہ 7 اکتوبر 2026 کو اسی سلسلے میں ان سے دوبارہ رابطہ بھی کیا گیا۔ فیکٹ فوکس نے ہاؤسنگ سوسائٹی اور متعلقہ سرکاری دفاتر کے ذریعے پلاٹوں، حکومتی دباؤ کا استعمال کرتے ہوئے پلاٹوں کو کمرشل قرار دینے اور بعد ازاں ان کی کمرشل حیثیت ختم کیے جانے سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق کی۔ یہ تمام تر تفصیلات فیکٹ فوکس کی مئی کی تحقیقات میں جاری گئی ہیں۔
جب فیکٹ فوکس نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے سوال کیا کہ ایک طاقتور اور سیاسی روابط رکھنے والے کاروباری شخص کی جانب سے ان کے پلاٹ استعمال نہ کیے جانے کے باوجود وہ بھاری ادائیگیاں کیوں وصول کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: ’’میں ان دو پلاٹوں سے حاصل ہونے والی کرائے کی آمدن پر ماہانہ آٹھ لاکھ روپے ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرا کرایہ ادا کرنے کے باوجود ان پلاٹوں پر کوئی کاروبار کیوں نہیں شروع کر رہے۔‘‘
سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا: ’’میرے رہائشی پلاٹوں کو قانون کے تحت اور قواعد پر عمل کرتے ہوئے کمرشل حیثیت دی گئی تھی۔‘‘ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اس علاقے کے لوگوں نے رہائش کے لیے پلاٹ خریدے تھے اور پُرسکون ماحول میں رہنے کی توقع رکھتے تھے، تو سکندر سلطان راجہ نے جواب دیا کہ وہ بھی اپنے پلاٹوں کو کمرشل قرار دینے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
انھوں نے نے اصرار کیا کہ ان کے پلاٹوں کو "رہائشی” سے "کمرشل” کرنے میں مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے ان پر کوئی نوازش نہیں کی۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ان کے پلاٹ اب بھی "کمرشل” حیثیت رکھتے ہیں اور ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کا انہیں دوبارہ اصل رہائشی حیثیت دینے کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو خالد ریاض اور نواز شریف کی ملاقات کی ایک ویڈیو کمپنی کے سرکاری سوشل میڈیا پیجز اور دیگر متعلقہ اکاونتٹس سے ہٹا دی گئی ہے۔ تاہم، فیکٹ فوکس نے اپنے سوالات بھیجنے سے پہلے ہی یہ ویڈیو ڈاؤن لوڈ کر لی تھی اور اس کے اسکرین شاٹس بھی محفوظ کر لیے تھے۔ یہ ویڈیو اب بھی کمپنی کے بعض ملازمین کی سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر موجود ہے۔
تحقیقات سے مزید معلوم ہوا کہ یہ خالی پلاٹ ابتدا میں مہر ارشد محمود نے کرائے پر لیے تھے، جو شریف خاندان کے ایک اور قریبی شخص اور نسبتاً ایک چھوٹے کاروباری ادارے زوم پیٹرولیم کے مالک ہیں۔
جب فیکٹ فوکس نے مہر ارشد محمود سے رابطہ کرکے پوچھا کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے پلاٹ کرائے پر لینے کے باوجود انہیں استعمال کیوں نہیں کیا، تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے معاملات پر فون پر بات نہیں کر سکتے اور صرف بالمشافہ ملاقات میں ہی تفصیلات بتائیں گے۔ مہر نے واٹس ایپ پر بھیجے گئے سوالنامے کا اسے وصول کر لینے کے بعد بھی جواب نہیں دیا۔
بعد ازاں، ان خالی پلاٹوں کے کرائے کی ادائیگی ایک بڑے کاروباری شخص خالد ریاض نے اپنے ذمے لے لی، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کو یہ ادائیگیاں اب تک جاری ہیں۔

