وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھی پاور سیکٹر کی سبسڈی روکنے کا عہد کیا ہے۔موجودہ نرخ گھریلویا تجارتی صارفین کے لیے قابل برداشت نہیں ہیں اور اس کے نتیجے میں ترقی کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ بجلی کی قیمتیں ابعلاقائی طور پر مسابقتی نہیں رہیں، جو کہ برآمدات کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی نیا مسودہ معاہدوں یا مخصوص مطالبات کو باضابطہ طور پر پاور کمپنیوں کو نہیں بھیجا گیا ہے اور کہا کہحکومت انہیں نئے ہائیڈل معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبور نہیں کرے گی۔
زرائع ابلاغ کے پلیٹ فارم روویٹرز سے گفتگو کرتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ "ہم أئی پی پیز کے ساتھ سول اور پیشہ ورانہ انداز میں بیٹھکر بات کریں گے،” حکومت نے ہمیشہ غیر ملکی اور مقامی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں کے لیے معاہدے کی ذمہ داریوں کو برقراررکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر نظر ثانی "باہمی رضامندی” سے ہوگی۔ اس کا مقصد تجارتی صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف کو 28 سینٹس سے کم کر کے 9 امریکی سینٹس تک لانا ہے۔