او سی سی آر پی کی حالیہ تحقیقات میں سینکڑوں دولت مند پاکستانیوں کے نام سامنے آئے جنھوں نے اپنا پیسہ سوئس بینک اکاونٹس میں چھپا رکھا ہے۔

فیکٹ فوکس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان سوئس بینک اکاونٹس کو پاکستان ٹیکس اتھارٹیز سے سے پوشیدہ رکھا گیا۔

او سی سی آ رپی ڈیٹا میں سامنے آنے والے ناموں میں سے بہت سے ایسے نام ہیں جو ماضی میں کرپٹ پریکٹیسز اور ٹیکس چوری کے کیسز کا سامنا کر چکے ہیں۔

او سی سی آر پی اور فیکٹ فوکس کے انکشافات کے بعد جنرل اختر عبد الرحمن کے بیٹوں نے اپنے باپ کے دور میں سوٹزرلینڈ میں اکائونٹس کھلنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا، دوسری طرف 1985 اور 1986 میں اکائونٹ کھولتے ہوئے سوئس بنک کو جو ذاتی معلومات فراہم کی گئیں، فیکٹ فوکس کی تحقیقات کے مطابق وہ بالکل درست اور پاکستان کی سرکاری دستاویزات کے عین مطابق ہیں۔

پاکستانی فوج کےجن دو جرنیلوں کے نام سوئس لیکس میں سامنے میں آئے ان کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ وہ بدنام زمانہ "گینگ آف فور” یعنی کے دو اہم رکن تھے۔

جنرل اختر عبدارحمن اور جنرل زاہد علی اکبر “جالندھر گروپ” جو کہ “گینگ آف فو ر” یا چار کا ٹولہ کے نام سے بھی پہچانا جاتا تھا کا اہم حصہ تھے۔ یہی ٹولہ پانچ جولائی انیس سو ستتر کی رات شب خون مارنے کی اس کاورائی میں بھی شامل تھا جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا اور بعد میں انھیں کنگرو کورٹس کے ذریعے پھانسی دلوا کر خو کو ہر طرح کی رکادٹوں سے آزاد رکھا۔

____________________________________________________________________________________________

اشتہار

تحقیقاتی صحافت کو آگے بڑھائیں۔

"گوفنڈمی” کے اس لنک پر جائیں اور فیکٹ فوکس کی "گوفنڈمی” کیمپئن میں اپنا حصہ ڈالیں۔

https://gofundme.com/FactFocus

[فیکٹ فوکس کی "گوفنڈمی” کیمپیئن کی ویڈیو دیکھیں۔]

______________________________________________________________________________________________

اس "گینگ آف فور” کے دوسرے دو افسران جنرل ضیا الحق اور جنرل رحیم الدین تھے۔ یہ چاروں اپنے بچوں کی شادیوں کے ذریعے ایک دوسرے کے رشتہ دار اور عزیز تھے۔ جنرل اختر عببدالر حمن کے کا بیٹا اکبر اور جنرل ضیاالحق کا بیٹا اعجاز الحق دونوں جنرل رحیم الدین کے داماد ہیں۔ جنرل اختر عبدالرحمن کا دوسرا بیٹا ہارون اختر جنرل زاہد علی اکبر کا داماد ہے۔

جالندھر گروپ / گینگ آف فور

فوجی جرنیل:

اگرچہ جنرل زاہد علی اکبر کا ذکر سوئس سیکرٹس میں الگ سے ہے، وہ ہارون اختر خان کے سسر ہیں۔ (ہارون اختر خان کا نام بھی سوئس لیکس میں دئیے گئے ناموں میں شامل ہے۔ )۔ ان کے والد اختر عبدالرحمن سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ جنرل اختر عبدالرحمن اسی کی دہائی میں افغانستان میں "جہاد” کیلیے سی آئی اے کے ساتھ پیسے کا لین دین کرتے تھے اور ان پر الزام تھا کہ انھوں نے سی آئی اے کے پراجیکٹ "افغان وار” کا پیسہ چرایا ہے۔ یکم جولائی 1985 وہ دن تھا جب سوئٹزلینڈ کے سب سے بڑے بنک ‘کریڈٹ سوئز’ میں جنرل رحمن کے تین بیٹوں ہارون، اکبر اور غازی کے ناموں پر ایک بنک اکائونٹ کھولا گیا۔ ان اکاونٹس میں رقوم اس وقت ڈالی گئیں جب ان کے کے والد ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔

ایک نیب کیس کا ابتدائی صفحہ، جس سے جنرل زاہد علی اکبر کی جنرل اختر عبدالرحمن کے بیٹے ہارون اختر اور لاہور کی برکی فیملی سے رشتہ داریوں کی وضاحت ہوتی ہے۔

او سی سی آر پی کی "سوئس سیکرٹس” نامی تحقیقات نے امریکی اخبار کی پرانی رپورٹ کی بھی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کا عنوان تھا “سی آئی اے کی خفیہ امداد برائے سویت جنگ سے پاکستانی جرنیل مالدار ہو گئے”۔ جنرل اختر عبدالرحمن کے تینوں بیٹوں کا سوئس سیکرٹس میں ذکر ہے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے 80 کی دہائی میں روس افغان جنگ کے دوران سوئس اکاونٹ کھولے۔

جنرل اختر عبدالرحمن ڈی جی آئی ایس آئی ہونے کے علاوہ اس دوران اس پانچ رکنی کمیٹی کے سربراہ بھی تھے جو بلاواسطہ سی آئی اے سے پیسے لیتی تھی۔ یاد رہے کہ یہ پیسہ افغانستان میں سوویت یونین سے برسر پیکار مجاہدین کو اسلحہ پہنچانے کے لئے دیا جاتا تھا۔

جنرل اختر عبدالرحمن جون 1979 میں روس افغان جنگ کے شروع ہوتے ہی ڈی جی آئی ایس آئی تعینات ہوئے تھے۔ اتفاقیہ طور پر ان کے بیٹے ہارون اختر نے بھی اسی سال کینیڈا کی شہریت حاصل کی۔ دوسرے بیٹوں کو بیرون ملک شہریت ملنے کی تاریخ کی تصدیق تو نہیں ہو سکی لیکن کریڈٹ سوئس بینک ریکارڈز بتاتے ہیں کہ ان کے دوسرے بیٹے بھی اکائونٹ کھولتے وقت بھی کینیڈا کے شہری ہیں۔ او سی سی آر پی کی سوئس سیکرٹس نامی تحقیقاتی رپورٹ میں جنرل اختر عبدالرحمن کے بیٹون کے نام پر کھولے گئے دو سوئس اکاونٹس سامنے آئے ہیں۔

ان میں سے ایک اکاونٹ جنرل اختر کے تین بیٹوں اکبر، غازی اور ہارون کے نام پہ مشترکہ ہے ۔ یہ اکاونٹ یکم جولائی 1985 کو کھولا گیا تھا۔سال 2003 تک اس اکاونٹ میں زیادہ سے زیادہ رقم کم از کم پچاس لاکھ سوئس فرانکس یعنی اس وقت کے مطابق 3.7 ملین ڈالر تھی۔
دوسرا اکاونٹ جنوری 1986 میں کھولا گیا جو صرف اکبر کے نام پر تھا۔ اس اکاونٹ کی زیادہ سے زیادہ رقم نومبر 2010 تک 9ملین سوئس فرانک یعنی اس وقت کے مطابق 9.2ملین امریکی ڈالر تھی ۔ یہ سب اوسی سی آرپی کی رپورٹ میں درج ہے۔

جنرل اختر عبدالرحمن آمر ضیاالحق کے ہمراہ اگست 1988 میں ایک طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہو گئے۔

امریکی میڈیااسی کی دہائی کے اواخر میں بتاتا رہا کہ پاکستانی جرنیل امریکی ٹیکس دہندگان کے سوویت افغان جنگ کیلیئے مختص کردہ پیسے سے اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی یکم مئی 1987کی پوسٹ میں جنرل اختر عبدارحمن کا بطور خاص ذکر کیا تھا۔ لیکن نہ تو جنرل اختر عبدالرحمان اور نہ ان ہی کے کسی ساتھی نے امریکی اخبار میں بیان کردہ سی آئی اے کی امداد میں مبینہ خرد برد پہ تحقیقات کا سامنا کیا۔
8 مئی 1987 کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک رپورٹ چھپی اور رپورٹ کا عنوان تھا ” افغان مجاہدین کیلئے (مختص) امداد سے جرنیل امیر ہو گئے”۔ رپورٹ کے مصنف Jack Anderson اور Dal VAn ATta نے یہ حوالہ دیا کہ ” سی آئی اے افغان باغیوں پہ تین ارب ڈالرز خرچ کر چکی ہے۔ اگرچہ اس رقم کا آدھا حصہ امریکی ٹیکس دھندگان نے دیا ہے لیکن ایک بھی امریکی اس فیصلہ سازی کا حصہ نہیں کہ ہتھیار کس کو ملنے ہیں۔ سی آئی اے نے یہ تمام فیصلے پاکستان کے چوٹی کے پانچ افسران کی خفیہ کمیٹی کے حوالے کیئے ہوئے ہیں جن کے اپنے مقاصد ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ویتنام کے بعد سی آئی اے کی سب سے بڑی خفیہ امداد نے پاکستانی جرنیلوں کو ارب پتی بنا دیا ہے۔”

دوسری طرف سن 2000 میں قومی تحقیقاتی ادارے نیب نے جنرل زاہد علی اکبر، ہارون اختر کے سسر کی تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے دوران ہی میں ریٹائرڈ جنرل نے2004 میں کریڈٹ سوئس میں اکاونٹ کھولا لیکن نیب اس سے بے خبر رہا۔ یہ اکاونٹ 2006 میں بند کر دیا گیا تھا لیکن اس کے بند ہونے سے پہلے اس اکاونٹ میں زیادہ سے زیادہ رقم 15,535,345 سوئس فرانکس تھی۔
نیب نے جنرل زاہد علی اکبر سے منسلک77 بینک اکاونٹس کا پتا چلایا ۔ مزید برآں جنرل اور اس کے خاندان کے افراد کی ملکیتی کئی جائدادیں بھی منظر عام پر لائیں۔

او سی سی آر پی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے زاہد علی اکبر نے تصدیق کی کہ انھوں نے بینک اکاونٹ مذکورہ دور میں کھولا لیکن اکاونٹ میں پیسہ اس دور میں نہیں ڈالا گیا۔ تمام رقوم پاکستان میں ٹیکس اتھارٹیز کے علم میں ہیں اور قانون کے مطابق سب پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ نیب کو اس اکاونٹ کا کیوں نہیں پتا چلا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ جنرل زاہد واپڈا اور پی سی بی کے چئیرمین رہے ہیں ۔ اس سے پہلےستر کی دہائی کے اواخر میں وہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری اور جی ایچ کیوکے تعمیراتی منصوبوں کے نگران بھی رہ چکے ہیں۔ زاہد علی اکبرنے 2015 میں نیب کے ساتھ بیس کروڑ روپے کی پلی بارگین بھی کی تھی ۔

صحافی:

اینکر پرسن رانا مبشر اور ان کی بیوی ارم مبشر نے بھی 3 اکتوبر 2008 کو کریڈٹ سوئس میں اکاونٹ کھولا۔
اکاونٹ میں مئی میں سب سے زیادہ رقم ایک ملین ڈالر پائی گئی ہے۔ یہ اکاونٹ نومبر 2011 کو بند کر دیا گیا تھا۔ او سی سی آر پی کی طرف سے بھیجے گئے سوالات کا رانا مبشر نے کوئی جواب نہیں دیا.

سیاستدان:

مرحوم سینیٹر گلزار احمد خان اور ان کے دو سینیٹر بیٹوں سینیٹر وقار احمد خان اور سینیٹر عمار احمد خان کے خاندان نے 2008میں سوئس بینک کے ساتھ اکاونٹ کھولا۔ ان کے اکاونٹ میں 9,786,955 سوئس فرانکس تھے۔ یہ اکاونٹ 2013 میں بند کر دیا گیا تھا۔ سینیٹر حضرات کو سوالات بھیجے گئے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ان اکاونٹس سے ایف بی آر اور الیکشن کمیشن لاعلم رہے۔

سوئس بینکس کے دیگر اکونٹ ہولڈرز میں پنجاب کے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جوان بخت اور ان کے بھائی عمر شہریار بھی شامل ہیں ۔ان بھائیوں کا یہ اکاونٹ 2011 سے 2012 کے دوران گیار ماہ تک چلتا رہا۔ اس اکاونٹ میں 2,765.038۔سوئس فرانکس پڑے رہے۔

2009 میں پی پی پی کے سینیٹر سیف اللہ بنگش جو اب وفات پا گئے ہیں، کے سوئس اکاونٹ میں زیادہ سے زیادہ 105,137413 سوئس فرانکس موجود رہے۔ 2010 میں نیب نے بینک فراڈ کے الزامات میں سیف اللہ بنگش پر بد عنوانی کا کیس درج کیا تھا۔ اس کیس میں سیف اللہ بنگش کے بیٹے شوکت اللہ بنگش اور کفایت اللہ بنگش بھی شریک ملزم نامزد کیئے گئے تھے۔ کفایت اللہ بنگش جینیوا کے ایک بینک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ اکاونٹ 03 نومبر2008 کو کھولا گیا تھا اور 21 دسمبر2011 کو بند کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ مذکورہ کیس میں نیب نے کوئی پیش رفت نہیں کی جبکہ سیف اللہ بنگش نے سلک بینک کے اکثریتی شیئرز بھی خرید لیئے۔ موجودہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اس وقت سلک بینک کے مالک تھے۔

کاروباری شخصیات:

لاکھانی گروپ:

لیکسن گروپ کے سلطان علی لاکھانی جو کہ ایکسپریس میڈیا گروپ کے بھی مالک ہیں کا نام بھی سوئس سیکرٹس ۔میں منظر عام پر آیا ہے۔
2001سے 2010کے درمیان سلطان لاکھانی، ذوالفقار لاکھانی اور امین محمد لاکھانی بشمول ان کے قریبی خاندانی افراد کے دس انفرادی اور مشترکہ بینک اکاونٹس رہے ہیں۔ یہ اکاونٹس قومی احتساب کے ادارے یعنی کہ نیب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے فورا بعد ہی کھولے گئے۔ اس معائدے کی رو سے قرض کی ادایئیگی کی مد میں انھیں 1.12 ارب روپے ادا کرنے تھے۔ مجموعی طور پر ان کے بینک اکاونتس میں 58,626,441 سوئس فرانکس پڑے تھے یعنی کہ ساٹھ ملین امریکی ڈالر۔
مذکورہ بالا لاکھانی افراد کے کے علاوہ ڈیٹا لیکس میں گل بانو لاکھانی، علیزے لاکھانی، انوشہ لاکھانی، فاطمہ لاکھانی۔ انیکہ امین لاکھانی، سائرہ امین لاکھانی، بابر علی لاکھانی، بلال علی لاکھانی، میشا لاکھانی، شائستی لاکھانی اور کلنٹن راون کے نام شامل ہیں۔2000 میں نیب نے سلطان علی لاکھانی اور امین محمد کو گرفتار کیا تھا اور لیکسن گروپ کے معاملات اور لاکھانیز کی بے نامی کمپنیوں کی جانچ پڑتال کی تھی۔
نیب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق لیکسن گروپ کا طریقہ واردات یہ تھا کہ شروع میں یہ گروپ اپنے ملازمین کے نام کمپنیاں کھولتے ہیں اور بعد میں کمپنی کی ڈائریکٹرشپ اپنے نام کر لیتے ہیں۔ یا پھر کمپنی کے شئیرز ملازمین کے نام رکھتے ہیں اور بعد میں ان بطور تحفہ یہی شئیرز اپنے یا اپنے خاندان کے افراد کے نام منتقل کروا لیتے ہیں۔

میرٹ پیکجنگ لمیٹڈ کمپنی ابتدائی طور پر 1980 میں ملازمین کے نام پر قائم کی گئی تھی جن میں راحت اللہ خان، عزیز ابراھیم، رفیع چاولہ، اسمعیل تلی اور شاہد اشفاق شامل تھے۔ 1985 میں کمپنی کی ڈائریکٹر شپ تبدیل ہوگئی اور لاکھانی برادران کمپنی کے ڈائریکٹر بن گئے۔
ان پر یہ الزام بھی تھا کہ یہ گروپ بے نام کمپنیوں کے ذریعے قرضوں میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔
2015 میں تمام سوئس اکاونٹس بند کر دئیے گئے تھے۔
لاکھانی برادران نے پوچھے گئے کسی بھی سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شون فیملی:
اوسی سی آر پی کی دی گئی معلومات کے مطابق معروف کاروباری خاندان ’’شون‘‘ کے بھی دو سوئس اکاونٹس ہیں۔ پہلا بینک اکاونٹ 07 ۔نومبر 2001 ۔کو کھولا گیا جب ناصر شون اور ان کے بھائی قرض نادھندگی کے کیس کا سامنا کر رہے تھے۔ یہ اکاونٹ۔10 ستمبر 2010 تک فعال رہا اور اس میں زیادہ سے زیادہ 477,140سوئس فرانکس پائے گئے ہیں۔
ایک دوسرا اکونٹ 05 اگست 2010 کو کھولا گیا اور یہ یک جنوری 2015 تک فعال رہا۔ ستمبر 2010 ۔تک اس اکاونٹ میں 1,023,261 سوئس فرانکس موجود تھے۔
او سی سی آر پی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئی شون فیملی نے تسلیم کیا کہ انھوں نے یہ اکاونٹ کھلوائے تھے اور مزید کہا کہ اکائونٹس کو کھولنا کوئی جرم نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 1995 سے 2005 ۔تک وہ سیاسی عتاب کا شکار رہے۔ اس مقصد کیلئے احتسابی اداروں کو استعمال کیا گیا۔ ثبوت کے طور پر انھوں نے ایک دستاویز مہیا کی جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے دستخظ ثبت ہیں ۔ اور دستاویز کے مندرجات میں لکھا ہے کہ شون برادرز کسی بھی بد عنوانی میں ملوث نہیں رہے اس لیئے عدالت سے درخواست کی جاتی ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات سے انھیں بری کیا جائے۔ جبکہ نیب کی ایک دوسری دستاویز کے مطابق پراسیکوٹر جنرل نے یہ بیان اس لیئے لکھا کیونکہ شون خاندان نے بینک قرض واپس کرنے کی تحریری طور پرحامی بھر لی تھی۔