اداروں کا دبائو ہے، ادارے عمران خان کو لانا چاہتے ہیں

 

 

 

 

 

اس لیے صحیح یا غلط، میاں صاحب اور بیٹی کو سزا دینی ہو گی

 

 

 

 

پاکستان میں ‘ادارے’ کا لفظ پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کیلیے استعمال کیا جاتا ہے

 

 

 

ثاقب نثار کا احتساب عدالت کے کسی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم دینے سے انکار، فیکٹ فوکس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے ان پر دبائو نہیں ڈالا

.

 

 

 

.

 

 

 

 

ایک ٹیلیفون ریکارڈنگ جو فارنزک معائنہ کے مطابق بالکل درست ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے فون پر ہدایات جاری کیں کہ کہ نوازشریف اور انکی بیٹی کو سزا ضرور دینی ہے کیونکہ ادارے خان صاحب کو لانا چاہتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان میں ‘ادارے’ کا لفظ پاکستان آرمی اور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کیلیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ دونوں وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈیپارٹمنٹس ہیں۔

 

 

 

 

 

 

فیکٹ فوکس کو یہ آڈیو تقریباً دو ماہ قبل ملی، اس کا معائنہ کیا گیا اور اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی آواز کی تصدیق ہو جانے کے بعد آڈیو کو فارنزک معائنے کے لیے امریکہ میں ملٹی میڈیا فارنزک کی ماہر ایک اہم فارنزک لیبارٹری "گیریٹ ڈسکوری” بھیجا گیا، گیریٹ ڈسکوری فارنزک کے شعبہ قابل ماہرین پر مشتمل ہے اور اس کے ماہرین امریکی عدالتوں میں فارنزکس سے متعلق ثبوت پیش کرنے جیسے معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔ گیریٹ ڈسکوری کی رپورٹ کے مطابق اس آڈیو کو کسی بھی طرح سے ایڈیٹ یا تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

فارنزک رپورٹ کے متعلقہ حصوں کا عکس ۔ ا

 

 

 

 

آڈیو ریکارڈنگ اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی اس بات سے شروع ہوتی ہے جس کا اقرار وہ سرعام نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی عدالتوں میں ہونے والے فیصلے ادارے (فوج اور آئی ایس آئی) کرواتے ہیں۔ آڈیو کے مواد اور اس آڈیو میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ہدایات پچیس جولائی سن دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے کچھ ہی دن پہلے اس وقت جاری کی گئیں جب سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کے افراد کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ سنا جا رہا تھا۔

 

 

 

 

فارنزک رپورٹ کے متعلقہ حصوں کا عکس ۔ ب

 

 

 

 

 

اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہدایات جاری کیں کہ جیسا بھی ہے میاں صاحب (نواز شریف) اور انکی بیٹی (مریم نواز) کو ہر حالت میں سزا دینی ہے۔ "یہ جائز ہے یا نہیں، یہ کرنا ہے،” ثاقب نثار نے فون پر دوسری طرف موجود شخص سے کہا۔ "جو بھی ہے سزا دینی ہے، بیٹی کو بھی۔” ٹیلیفون کال کے دوران جب ثاقب نثار کو بتایا گیا کہ بیٹی کو سزا نہیں بنتی تو انہوں نے کہا، "آپ بالکل جائز ہیں، میں نے "دوستوں” سے بات کی ہے کہ اس پر کچھ کیا جائے، مگر میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا۔” ثاقب نثار نے مزید کہا کہ "عدلیہ کی آزادہ نہیں رہے گی، تو چلیں۔۔۔”

 

 

 

فیکٹ فوکس سے بات کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی احتساب عدالت کے کسی جج کو نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق حکم نہیں دیا۔ ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ فوج یا آئی ایس آئی میں سے کسی نے کبھی اس حوالے سے ان پر دبائو نہیں ڈالا، ثاقب نثار نے فیکٹ فوکس کو مزید بتایا کہ ان کا میاں نواز شریف سے کوئی بغض نہیں ہے تو وہ ایسا کیوں کریں گے؟

 

 

 

 

آڈیو کی لفظ بہ لفظ ٹرانسکرپٹ کچھ یوں ہے

 

 

 

ثاقب نثار‏:
Let me be little blunt about it; unfortunately
ہمارے پاس ججمنٹ ادارے دیتے ہیں،
اس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہے،،،
اور کہا گیا ہے کہ ہم نے خان صاحب کو لانا ہے،،،
بنتا ہے نہیں، اب کرنا پڑے ،،، بیٹی کو بھی نہیں۔

دوسرا شخص:
لیکن میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے۔

ثاقب نثار:
آپ بالکل جائز ہیں ، میں نے اپنے دوستوں سے یہی کہا کہ جی اس پر کچھ کیا جائے اور میرے دوستوں نے اتفاق نہیں کیا ۔
Independence of Judiciary
بھی نہیں رہے گی
تو چلیں۔۔۔

 

 

 

پانامہ کیس کے اہم واقعات کی ٹائم لائن

 

 

 

April 03, 2016
آئی سی آئی جے نے پانامہ پیپرز جاری کیے جو کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے ہزاروں افراد کی ملکیت میں موجود آفشور کمپنیوں کی ایک ڈیٹا بیس تھی۔ اس میں پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے چند افراد سمیت پانچ سو سے زیادہ افراد کے نام بھی تھے۔

April 05, 2016
اپوزیشن جماعتوں نے پانامہ پیپرز میں رپورٹ کیے گئے حقائق کی تحقیقات کیلیے ایک مہم کا آغاز کیا اور اپوزیشن کے اہم رہنما عمران خان نے کہا کہ لوگ آفشور کمپنیاں صرف اس لیے بناتے ہیں کہ ٹیکس دینے سے بچ سکیں یا غلط طریقے سے بنائی گئی دولت کو چھپا سکیں۔

April 05, 2016
اس وقت کی حکومت نے پانامہ پیپرز میں وزیر اعظم کے خاندان کے افراد کے خلاف لگے الزامات کی تحقیقات کیلیے ایک عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا مگر حکوت اور اپوزیشن اس کمیشن کے ٹی او آرز پر متفق نہ ہو سکیں اور بالآخر معاملہ سپریم تک پہنچا۔

August 30, 2016
پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے پانامہ پیپرز میں رپورٹ ہونے معاملات کی بنیاد پر اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کیلیے سپریم میں درخواستیں دائر کر دیں۔

October 06, 2016
سینئر صحافی سرل المائدہ نے معروف انگریزی روزنامہ ڈان کیلیے ایک اہم خبر "دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرو یا بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرو، سویلیئنز نے ملٹری کو بتا دیا” کی ہیڈ لائن شائع کی۔

October 31, 2016
سپریم کورٹ نے اپوزیشن کی دائر کی درخواستوں کو سماعت کیلیے منظور کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا جس سے یکم نومبر دو ہزار سولہ سے سماعت کا آغاز کیا۔

December 30, 2016
جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس بنے اور حلف لینے کے چند گھنٹوں بعد انہوں نے پانامہ بنچ کی تشکیل نو کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ بنایا جس کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن شامل تھے۔

January 04, 2017
نئے تشکیل شدہ بنچ نے سپریم کورٹ میں اپنی سماعت کا آغاز کیا۔

February 23, 2017
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اپنی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

April 19, 2017
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا۔ تین ججز، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن نے اکثریتی فیصلے میں آئی ایس آئی، ایم آئی، نیشنل اکائونٹیبیلیٹی بیورو (نیب)، ایف آئی اے، سٹیٹ بنک آف پاکستان، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے سینئر افسران پر مشتمل ایک جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا جس کا کام وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کے افراد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حقیقت کو جانچنا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک مانیٹرنگ بنچ بنانے کا حکم بھی صادر کیا گیا جس کا کام اس جے آئی ٹی کے کام کی نگرانی کرنا تھا۔ دو ججز جسٹس آسف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اقلیتی فیصلے میں وزیراعظم نوازشریف کو ناہل قرار دیا۔

May 02, 2017
اس وقت کے چیف جسٹس نے پانامہ فیصلہ سنانے والے ہی تینوں ججز جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل مانیٹرنگ بنچ قائم کر دیا۔

May 03, 2017
سپریم کورٹ کے تین رکنی مانیٹرنگ بنچ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کی طرف سے مقرر کیے جانے والے ناموں کو مسترد کر دیا۔

May 05, 2017
سپریم کورٹ کے تین رکنی مانیٹرنگ بنچ نے ایف آئی اے کے اس وقت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں چھ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی جس کے ارکان میں آئی ایس آئی کے برگیڈئر محمد نعمان سعید، ایم آئی کے برگیڈئر کامران خورشید، سٹیٹ بنک کے عامر عزیز، ایس ای سی پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال رسول اور نیب کے عرفان نعیم منگی شامل تھے۔

July 10, 2017
جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ جمع کروائی جو کہ سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ پر جاری کر دی گئی۔

July 28, 2017
سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس میں اپنے حتمی فیصلے میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو انکے بیٹے کی دوبئی میں کمپنی "جفزا” میں مقرر کی گئی تنخوا، جو انہوں نے وصول نہیں کی تھی، کو اپنے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر ناہل قرار دیا اور نیب کو نوازشریف اور انکے خاندان کے افراد کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم بھی دیا۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں کو چھ ماہ کے اندر اندر ان ریفرنسز پر فیصلہ سنانے کا حکم بھی جاری کیا۔ جسٹس اعجازالاحسن، جو کہ پانامہ کیس کے بنچ اور مانیٹرنگ بنچ کا بھی حصہ تھے، کو فیصلے پر عملدرآمد کیلیے نیب اور احتساب عدالتوں کی نگرانی کیلیے مانیٹرنگ جج مقرر کیا گیا۔

June 10, 2018
جب احتساب عدالت پہلے ریفرنس میں ہی اپنا ٹرائل مکمل نہ کر سکی اور سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگا تو اس وقت کے چید جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس اعجاز الاحسن کے ساتھ دو رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے احتساب عدالت کو ہر حالت میں چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کر کے دس جولائی دو ہزار اٹھارہ سے پہلے پہلے فیصلہ سنانے کا حکم جاری کیا، جب پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کو ملک میں عام انتخابات تھے۔ جسٹس ثاقب نثار نے فیصلے می لکھا کہ چاہے احتساب عدالت ہفتے کے دن اپنی کاروائی جاری رکھے مگر چار ہفتوں میں اپنا فیصلہ سنا دے۔

 

 

 

ہفتے کے دن بھی سماعتیں کرکے دس جولائی دوہزاراٹھارہ (عام انتخابات سے پندرہ دن قبل) تک فیصلہ سنانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا عکس

 

 

 

July 06, 2018
احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنا دی۔

July 13, 2018
نواز شریف جو اس وقت لندن میں تھے اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمرا پاکستان واپس لوٹے اور اور باپ بیٹی کو لاہور ایئرپورٹ سے رینجرز نے گرفتار کیا۔

July 25, 2018
پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔

 

 

 

.

 

 

 

 

پانامہ کیس کے حوالے سے اہم واقعات کی ٹائم لائن

 

 

 

.

 

 

 

 

آپ ٹائم لائن کا سائز چھوٹا یا بڑا کر سکتے ہیں۔ کسی بھی تاریخ سے منسلک واقعے پر کلک کر واقعہ کی تفصیل جان سکتے ہیں۔