
صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں عوامی اجتماعات کے انعقاد کو قابو کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظورکیے گئے بل کی فوری منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں عوامی اجتماعات کو منظم کرنے اور پابندی عائد کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو بااختیار بنانے کے مقصد سے،’پرامن اجتماع اور پبلک آرڈر بل 2024 2 ستمبر کو ایوان بالا میں پیش کیا گیا تھا، جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی نے 3 ستمبر کومنظور کیا تھا اور 5 ستمبر کو سینیٹ سے منظور کیا گیا تھا۔
پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سینیٹ میں آنے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں قانون کی منظوری دے دی گئ ۔اس کے بعد اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان یہ بل 6 ستمبر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ بعد ازاں چند گھنٹوں کے اندر صدر مملکت نے اس کیمنظوری دے دی۔
آئین کے تحت صدر کے پاس پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل پر دستخط کرنے یا اسے دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو بھیجنے کے لیے 10 دن ہوتے ہیں۔اس نئے قانون میں غیر قانونی اجتماعات میں شامل افراد کے لیے تین سال تک کی سزا یا/اور غیر متعینہ جرمانہ تجویزکیا گیا ہے۔
جس کسی کو بھی پاکستان میں کسی عدالت نے اس ایکٹ کے تحت تین سال یا اس سے زیادہ کی قید کے ساتھ کسی جرم کی سزاسنائی ہے وہ اس کے بعد کے ہر جرم کے لیے سزا کا مستحق ہوگا جس کی مدت دس سال تک ہوسکتی ہے۔اس قانون کے تحت اجتماع کے منتظم کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تقریب کی مقررہ تاریخ سے کم از کم سات دن پہلے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تحریری درخواست موصول ہونے پر ضلع مجسٹریٹ اجازت دینے سے پہلے امن و امان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سیکورٹی کلئیرنس رپورٹس حاصل کرے گا۔
اس قانون سے حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے دارالحکومت کے ایک مخصوص علاقے کو ‘ریڈ زون’ یا’ہائی سیکیورٹی زون’ کے طور پر نامزد کرے، اس طرح اس علاقے میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی جائے۔
اس قانون کے تحت ایک اجتماع کی تعریف کی گئی ہے کہ "کسی بھی عوامی یا سیاسی اجتماع، ریلی، دھرنے یا جلوس میں 15 سے زیادہ افراد کا کسی بھی عوامی سڑک یا کسی دوسرے عوامی مقام یا احاطے میں مکمل یا جزوی طور پر جمع ہونا۔